دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال

by Other Authors

Page 82 of 101

دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 82

82 بریلوی حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی گجراتی لکھتے ہیں کہ احمد اور بہیقی اور حاکم نے صحیح اسناد سے حضرت عرباض بن ساریہ سے روایت کیا کہ حضور اکرم صلی ا ہم نے ارشاد فرمایا۔میں رب تعالیٰ کے نزدیک خاتم النبیین ہو چکا تھا حالانکہ ابھی آدم علیہ السلام اپنے ضمیر میں جلوہ گر تھے۔“ (مشکوۃ) (رسائل نعیمیہ، صفحہ 64) مولوی عبدالاحد قادری لکھتے ہیں کہ : حضرت عرباض بن ساریہ سلمی سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی للہ یہ تم نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس وقت خاتم النبیین تھا جب ابھی حضرت آدم علیہ السلام مٹی ہی تھے۔“ ( رسائل میلاد مصطفی صفحہ 258) مولوی اشرف سیالوی لکھتے ہیں : آنحضرت سال پیام حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق و ایجاد سے پہلے نبوت و رسالت اور خاتم النبیین کے منصب پر فائز تھے۔“ (ملخصاً نور الابصار، صفحہ 22-23 ، بحوالہ سندیلوی کا چیلنج منظور ہے ) کاظمی صاحب لکھتے ہیں حدیث کا مطلب یہی ہے کہ میں فی الواقع خاتم النبیین ہو چکا تھا نہ یہ کہ میرا خاتم النبیین ہو نا علم الہی میں مقدر تھا۔(مسئلہ نبوت عند الشیخین ،صفحہ 21) سیالوی صاحب! آپ کا کیا پروگرام ہے۔یہ مولانا نانوتوی کے موافق تمہارے بزرگ ہوئے یا نہ اب ان کے کفر و ایمان کا مسئلہ نہ رہا۔بلکہ تمہارے ایمان کا مسئلہ بن گیا اب بھی ان کو بزرگ مانتے ہو تو تم بھی گئے اور اگر ان کو بھی کا فرما نو و یہ تم سے ہو نہ سکے گا کہ باپ کو بھی کافر کہو۔“ ( حسام الحرمین کا تحقیقی جائزہ، صفحہ 132 تا136 ) خاتم کا لفظ لغوی اعتبار سے زبان عرب میں جن حقیقی یا مجازی معنوں کے لئے استعمال