دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 80
80 غلام نصیر الدین سیالوی لکھتا ہے : بعض حضرات یہ روایت پیش کرتے ہیں کہ سرکار علیہ السلام نے فرمایا: انی عند الله لمكتوب خاتمه النبيين و آدم لمنجدل فی طینته۔اس کے بارے میں گزارش ہے کہ اس حدیث سے استدلال درست نہیں کیونکہ اگر سرکار علیہ السلام کو سب سے پہلے نبوت ملی ہے تو آپ خاتم الانبیاء کیونکر ہو سکتے ہیں اگر سب سے پہلے سرکار علیہ السلام ختم نبوت سے متصف تھے۔تو پھر بعد میں ایک لاکھ 24 ہزار انبیاء کیسے مبعوث ہوئے۔اس طرح تو پھر نانوتوی کا کلام ٹھیک ہو جائے گا کہ اگر بعد زمانہ نبوی کوئی اور نبی آجائے گا تو ختم نبوت میں کچھ فرق نہ آئے گا۔نیز دیگر انبیا علیہم السلام صرف علم الہی میں نبی تھے بالفعل نہیں ہے۔تو پھر سرکار علیہ السلام ان سے آخری کیسے ہو گئے۔آخری نبی ہونے کا مطلب تو یہ ہے کہ سارے انبیاء علیہم السلام کے بعد نبوت کا عطا ہوا اور اس ہستی کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔( تحقیقات ،صفحہ 394،393) اس سے چند باتیں ثابت ہوئیں۔1۔اگر نبوت آپ کو سب سے پہلے ملنا مانی جائے تو آپ خاتم النبین نہیں ہو سکتے۔2۔اگر آپ کو شروع سے ہی یعنی تخلیق آدم سے پہلے ہی سے ختم المرسلین مانا جائے تو پھر مولانا نانوتوی کا کلام درست ہو جائے گا۔بالفاظ دیگر اس کا اور مولانا نانوتوی کا نظریہ ایک جیسا ہوگا۔3۔آخری نبی کا مطلب یہ ہے آپ کو نبوت سب کے بعد ملے۔4 - مفتی عبد المجید خان سعید نے غلام نصیر الدین سیالوی کے متعلق لکھا ہے کہ بیٹا اور اس کے توسط سے مولنا نا درست اور موید عقیدہ کفریہ نانو تو یہ بتا رہا ہے۔(مسئلہ نبوت، صفحہ 30) یعنی یہ کہنا کہ اپ جناب آدم سے پہلے ہی خاتم الانبیاء تھے یہ غلام نصیر الدین سیالوی کے نزد یک عقیدہ کفریہ ( قادیانیہ، دیوبندیہ ) کا موید ہے تو پھر اگلے آنے والے سب علماء بھی کفر کے موید ہونے کی وجہ سے کافر ہوئے۔