دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال

by Other Authors

Page 25 of 101

دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 25

25 25 جائیں اور کوئی تعمیری و اصلاحی کام کر لیں تو ہمارا ذمہ۔۔۔اسی طرح اشتعال انگیزی بھی ہماری تحریکوں ، جماعتوں اور قائدوں کی جان ہے۔آپ بڑے بڑے دیندار با اخلاق اور سنجیده و متین پہاڑوں کو کھو دیں تو اشتعال کا چوہا نکلے گا۔الیکشن بازی میں تو دیندار اور بے دین سب کے سب اشتعال انگیزی ہی سے کام لیتے ہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ اس سے کوئی کم لیتا ہے اور کوئی زیادہ۔ہمارے احراری بزرگ اس میں سب سے آگے ہیں اس لئے رشک وحسد کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔“ ( آزاد احرار نمبر مورخہ 27 /ستمبر 1958ء صفحه 17-18 ) جوقابونہ آئے اُس پراحمدی ہونے کا الزام لگادو عام دنیا میں جھوٹ بولنے کے بھی کئی طریقے رائج ہیں۔پھکڑ بازی، تمسخر، ہنسانے کے لئے رکیک جملے ، اور پھر بازاری زبان۔مگر دیو بندی دنیا میں یہ سب بھی کافی نہیں اس لئے وہ ان لوازمات کے ساتھ ساتھ ہر اس بندے کو جو نظریاتی طور پر اختلاف رکھتا ہو اس پر احمدی یا احمدی نواز ہونے کا الزام لگانا بھی مقصد حیات بنالیتے ہیں۔ہندوستان کے مشہور عالم جناب غلام احمد پرویز صاحب بھی ایسے ہی حملے سے مضروب ہوئے تو آپ نے اس حقیقت سے یوں پردہ اٹھایا۔آپ فرماتے ہیں۔ان (دیوبندی) احراری حضرات کی یہ بھی تکنیک ہوا کرتی تھی کہ جو نہی کسی نے ان کی مخالفت کی انہوں نے شور مچا دیا کہ یہ میرزائی ہے اور جب وہ بیچارہ چیخا چلایا کہ مجھے میرزائیت سے کوئی واسطہ نہیں تو کہہ دیا کہ یہ میرزائی نہیں تو میرزائی نواز ضرور ہے۔“ ( مزاج شناس رسول ، صفحہ 444 شائع کردہ ادارہ طلوع اسلام کراچی ) "تبلیغ کا مطلب گالیاں“ دیو بندی حضرات نے 21 راکتو بر تا 23 اکتوبر 1934 ء نے قادیان میں تبلیغ کانفرنس منعقد کی۔اس کا نفرنس کا حال مشہور اخبار سیاست میں تبلیغی کا نفرنس“ کے عنوان سے یوں شائع ہوا۔د تبلیغ کے معنی آج تک تو یہ سمجھے جاتے تھے کہ محبت اور آشتی سے دلائل پیش کر کے کسی کو اپنا ہم خیال بنایا جائے لیکن تبلیغ کے یہ معنی کہ کسی گروہ کو گالیاں دے کر مشتعل کیا جائے۔