بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 93 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 93

93 نمونہ ہوتے ہیں۔اور وہ اسی لئے دنیا میں بھیجے جاتے ہیں کہ ان کی تعلیم سے حقیقت اسلام دنیا پر اس طرح واضح ہو جائے کہ جس سے ہر شخص اس کا مستحق ہو جائے تاکہ جس سے اس کا وجو د و معہ اپنے تمام باطنی و ظاہری قویٰ کے محض خدا تعالیٰ کے لئے ہی وقف ہو جائے اور جو امانتیں اس کو خدا تعالی کی طرف سے ملی ہیں پھر اسی معلی حقیقی کو واپس کر دی جاویں اور نہ صرف اعتقادی طور پر بلکہ عمل کے آئینہ میں بھی اپنے اسلام اور اس کی حقیقت کاملہ کی ساری شکل دکھلائی جاوے۔یعنی مدعی اسلام یہ بات ثابت کر دیوے کہ اس کے ہاتھ پاؤں دل و دماغ اس کی عقل اس کا فہم، اس کا غضب ، اس کا رحم ، اس کا حلم ، اس کا علم ، اس کی تمام روحانی اور جسمانی قوتیں ، اس کی عزت اس کا مال اس کا آرام اس کا سر اور جو کچھ اس کے سر کے بالوں سے لے کر پیروں کے ناخنوں تک باعتبار ظاہر و باطن کے ہے۔یہاں تک کہ اس کے نیات اس کے دل کے خطرات اس کے نفس کے جذبات سب خدا تعالی کے ایسے تابع ہو گئے ہیں کہ جیسے ایک شخص کے اعضاء اس شخص کے تابع ہوتے ہیں۔غرض یہ ثابت ہو جاوے کہ قدم صدق اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ جو کچھ اس کا ہے۔وہ اس کا نہیں بلکہ خدا تعالی کا ہو گیا ہے کہ تمام اعضاء قوی الہی خدمت میں ایسے لگ گئے ہیں۔گویا وہ جوارح الحق ہیں۔" ( آئینہ کمالات اسلام صفحه ۵۹ - ۶۰) اسلام چیز کیا ہے خدا کے لئے فتا ترک رضائے خویش ہے مرضی خدا جو مر گئے انہیں کے نصیبوں میں ہے حیات اس راہ میں زندگی نہیں ملتی بجز ممات (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه (۸) •