بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 94 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 94

94 "اس مرتبہ پر خدا تعالیٰ اپنی ذاتی محبت کا ایک افروختہ شعلہ جس کو دوسرے لفظوں میں روح کہتے ہیں مومن کے دل پر نازل کرتا ہے اور اس سے تمام تاریکیوں اور آلائشوں اور کمزوریوں کو دور کر دیتا ہے اور اس روح کے پھونکنے کے ساتھ ہی وہ حسن جو ادنی مرتبہ پر تھا کمال کو پہنچ جاتا ہے۔اور ایک روحانی آب و تاب پیدا ہو جاتی ہے اور گندی زندگی بالکل دور ہو جاتی ہے اور مومن اپنے اندر محسوس کر لیتا ہے کہ ایک نئی روح اس کے اندر داخل ہو گئی ہے۔جو پہلے نہیں تھی۔اس روح کے ملنے سے مومن کو ایک عجیب سکینت اور اطمینان پیدا ہو جاتا ہے اور محبت ذاتیہ الہیہ ایک فوارہ کی طرح جوش مارتی اور عبودیت کے پورا کی آبپاشی کرتی ہے اور وہ آگ جو پہلے ایک معمولی گرمی کی حد تک تھی۔اس درجہ پر وہ تمام و کمال افروختہ ہو جاتی ہے۔اور انسانی وجود کے تمام خس و خاشاک کو جلا کر الوہیت کا قبضہ اس پر کرا دیتی ہے اور وہ آگ تمام اعضاء پر احاطہ کر لیتی ہے۔تب اس لوہے کی مانند جو نہایت درجہ آگ میں تپایا جائے یہاں تک کہ سرخ ہو جائے اور آگ کے رنگ پر ہو جائے۔اس مومن سے الوہیت کے آثار اور افعال ظاہر کرتا ہے۔مگر یہ نہیں کہ وہ مومن خد ا ہو گیا ہے۔بلکہ محبت البیہ کا کچھ ایسا ہی خاصہ ہے جو اپنے رنگ میں ظاہر وجو د کو لے آتی ہے اور باطن میں عبودیت اور اس کا ضعف موجود ہوتا ہے۔" (ضمیمه بر امین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۲۱۵ ۲۱۶) براہین کتاب "خزینہ معرفت " اور رسالہ "حقیقت حدیث قرطاس" کے قابل احترام اور معزز مولفین نے ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم میں مذکورہ اقتباس کے بعد کے وہ فقرات جن سے نفس مضمون نقطہ معراج تک پہنچ جاتا ہے اور روح وجد کر اٹھتی ہے، عمد ا ترک کر دیئے ہیں۔لہذا ان کو حوالہ قرطاس کیا جاتا ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ را