بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 195 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 195

195 دینا | 10 مغرب مفرد از دما سمعت الله اقسور بحریات یعنی الہ تعالے نے آپ کے سوا اوپر اور نیتی اورح واجسا اور ظاہر باطن میں نظر آتا ہے خواہ وہ ذات پر اعرنی ا کسی کی حیات کی قسم نہیں کہائی خواه خیلی بر یا خارجی خالق ارض و سماہی کیا مشیہ ہے اور اسی کا فیضان ہے۔پانداز احل غيرة به سیاست هایی به شرف : کرامت بھی صرف ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے اس بات کی طرف کو حضرت رب العالمین کا فیضان ہر چیز پر محیط ہے کوئی ہے اوراس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ اور پاک کے نزدیک نام انیا سے زیادہ جگہ اور کوئی جو اس کے نین سے خالی در محروم نہیں وہ تمام خون کا مبدا ہر و فیوض - مجوب دیگرم اور اشرف و معزز ہیں۔اور اور تمام افراد کی عدت ہے تمام دوستوں کی مر یہ ہے نام پر بات کا فون ہے ۱ حضرت این است الساری بہت جس نے ہر چیز کو کالاست عدم سے نکال کہ وجود کی روشنی عطا کی کائنات (۵) آپ اپنے اصحا ت کے لئے امان میں فی است ا ا روایت ارضی و سیادت کرتی : جو ایسا نہیں برنامت باری تعالے سے اسے غیض نہ ہو یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریا کہ مجھ سے پہلے جتنے نبی ہوئے ان کی مسلمان نام ہے جن کو اللہ نور السمیات و یا رمیض سے تعبیر کیا گیا ہے۔بہ منائیں ان کے جواری اور اصحاب ہوتے تھے جو ان انبیاء سے طریقہ ارسام اس نے نیس نام کو بیان فرمانے کے بعد بغرض الخمار کی بیتا فیضان خاص - نور حضرت کی ہر نگاہ انتہا کرتے تھے پہر ان کے بعد ایسے لوگ پیدا ہوتے تھے کہ لوگوں خاص نہ حضرت خاتم الانبی اصل اور عالی سال کا شنا کو بیان فرمایا، نوین ے ایسی باتیں جن پہ خودعمل نہکرتے اور ایسے کام کرتے جن کا ان کو حکم دیا کہ مثال ہی اسے بیان برای ما این ادا کر نے میں کوئی الہام اور ت کو سمجھنے گیا تھا انج رات کیا اس کو مسلمہ نے۔اقی نہ رہے۔علیہ بیان و معافی کا اصول ہے کہ معافی مقولہ کو مے محسوس در بیان مطلب یہ ہے کہ حضور سے پہلے بلے بنی ہوئے ان کی لاتی ہوئی شریعتیں کرنے سے پر ایک اتنی ہی اس امر کو بھونی ہو جاتا ہے فرمایا کہ نبوت محمدی باران اور تعلیمات ان کے زبانوں اور ان کے اصحاب کے زمانوں اب تو محفوظ رہیں ان لا نے الیا اگر یہ محمدی یعنی فیضان محمدی کے شرف و کماں کو بیچنا ہے تو اسی) ان اوران ہیں باید بدانا نا و تحریفات سے دو شہر میں گم پاسخ ہو جاتی ہیں لیکن اس بات میں مثال سے ہے۔تاکہ تم اپنی زندگیوں اور عقائدہ اعمال کی تاریکیوں کو دور کر کے شا و یا بارے میں سمجھ آپ کو تمام انبیا پر جو شرف وصل ہے ان منانے لھا اس علم کا خون ارشاد ہے اپنے آپ کو نور ایسان سے منور کر سکیں۔اطا طالبات مراد رسول اکرم صلی الله سب صلی اث سلمہ کا سینہ مبارک اور چراغ ہے کثافتوں شیشه إذا امان اصحابي ا میں اپنے اصحاب کے لیڈران بون اس کی شرح بیش اعلی از باد نوت بغض اختلاف اور بعض نعتوں سے کرتے ہیں دت عنی و من غیر باعت و اختلاف او رشتوں سے مامون رہنے کا سبب ہیں۔آپ کی مرا انہی آتی ہے پھر فرانا کہ چراغ ایک شیشہ کی قندیل میں ہے جو نہایت مفی است آپ کی شریعت کا الہ کی حقیقت نہ ہو سکے گی جوڑے گی مگر ہر اک سے ہر ہے یعنی نیابت پاک و مقدس دل اپنی اصل نظرت میں مہمات و شفاف می شه انگی اور نبیوں کی امین ہوتے ہیں اور اسی تیب دیں کہ بھر بھر نہ کہیں کہ آپ کی طرح ہرقسم کی کہ بورتوں سے اور ہر نوع کی نشانیوں سے سنز، و مظہر ہے طالب استیں تجر سکیس کو یہ شرف حاصل ہے کہ است نجوا کہ باہر جائیگی اور نہ کر ابھرے گی ، مینوں کیہ کرآپ کا سایت صرافی تعلقات اسدی اسد سے بجلی پاک ہے اس میں غیر ان کا کا بازار ارم ہوگا اختلافات کا مونان اٹھے گا انہ نون کا سیلاب آئیگا مگر محبت اذان با نظمت و جلال کا مطالق کندر نہیں ہیں۔پسینہ ہے جس سے دنیا نام احسانات اور نام با چنین نام اختار ناشتہ اور تمام شتے اپنی موت آپ مر جائیں گے اور تعلیمات میں علوم و معارف کے چشمے پھوٹیں گے اور شماری پھیل گمراہیوں کے حسن خان کو ان بھارت خوانی ات ہے کہ تو رافق عالم پیر فراگستر رہے گا اور اسی شریعت پر دنیا کی خانہ بہ کو دیا جا ئیں گے مینی اور این امراض کا آپ تجمع قمع کریں گے اور انسانوں کے فیضان شہری کی مثال العنود السموات والارض بالوں کو صاف کر کے ان میں انا للہ کے نقوش ثبت کر دیں گے۔مثل :ورلا كمشكوة فيها شیشہ کی صفائی یا سینہ فتنوں کی آب وتاب که فرمایا کہ گو یا آسمانی درد است تو مين الصبا من زجاجه السر نور ہے آسمانوں اور زمین کا اس کا ایک روان ستارہ ہے یعنی آپ کا دل انا منور اور درخشندہ ہے کہ اس والزجاجة کیا تھا کہ کہ بہادری کے نور کی مثال من طاق کے ہے کہ کی اندرون بخشندگی بیرونی قالب پر پانی کی طرح بہتی ہوئی نظر یہ قدامت شجر کا مار کر دین اس میں چراغ ہو اور چراغ شیشے کی تبدیلی آتی ہے۔لاشرفية ولا سبيد تا د میں ہو، تبدیل ایسی ہو کہ گویا ایک تا را نهایین و لولده تمسسه نار پکتا ہے۔روشن کیا جاتا ہے وہ چراغ دوران ہوا فریایا۔وہ نور علی نوسن چھلی الله لنوره درخت مبارک نرمتون سے دو مشورت زیتون کے شجرہ مبارکہ سے ایشن کیا گیا ہے۔شجرۂ مبارکہ سے مراد وجود من یشاء ويضرب الامثال کی طرف ہے اور نہ مغرب کی طرف زیادی محمدی ہے جو تناسب اعضاء جامع بیت و کالا اور الواع و اقسام کی برکتوں لاناس و الله بکل شی علیم ہے اس کا تیل روشن ہو جائے اگر چہ ا رد کشیوں کا مجموعہ ہے نہں کا نتیش کسی ہمت کسی زبان اور کسی کے لئے اس کو آگ لگے روشنی کے اوپر دوستی ال تعالے نے نور سے پیر کو چاہتا ہے مخصوص نہیں بلکہ ان انسانوں تمام ملکوں اور تمام زمانوں کے نئے نام اور نام رکھاتا ہے اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے اور اسہ ہر چیز جاری ہے جو نیام تا آنک کی منقطع نہ ہو گا آپ پر ایمان لانے والے اپنی بے قد مرت کور ذوقی با نسمتی اور عربی سے است و ذلیل ہو جائیں تو ہو جائیں نہ کا جانے والا ہے۔اللہ خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے میں بریک فورد بلندی گرا کا است با تو رات عام پر نیا ری رہے گا اورسلمانوں کو آپ که - -- --