بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 196
196 مولوی ولی صفر ترقی و کامیابی اور فلاح و نجات کی طرف بالا تا ر ہے گا لطیفہ کہ ہے آگ کھانے ہی روشن ہونے کی خاصیت یہ کہتا ہو۔میں نے آپ تا آپ نے اپنی امت کو دو شریعت غرادی ہے جن کے علمی حمل کی نا نا کی سی کی فکری باعمل اور ظاہری و باطنی توئی صلاحیتی اور اخلات ناضای نیروی خود قومی فاصله نام شریعتیں ماند پڑ گئیں آپ ہما کی شریعت کا ملہ ہے جس نے زندگی کے تمام پہلو بخوبی روشن ہو نے اور عالم کہ انبہ طور بنا دینے پر آمادہ تھے آپ کی عقل اور کو اجاگر کر دیا اور انہوں بیگانوں کے سامنے روحانی زمادی ترقی کے رائول جذبات، احساسات نبوت ملنے سے پہلے ہی کمال موز و نیت لطافت اور نور است و قوانین رکہ ہے۔آپ کی شریعت کی بنیائیکی اور عدل پر ہے آپ کی بعثت سے رہتے تھے یہاں ضرور ی اور متناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی الہ علیہ وسلم اور تمام روئے زمین کے لئے عام خیرو برکت کا دروازہ کھل گیا اند تورات کی پیشگوئی کی نیت سے پہلی زندگی کے صنعان تبر کا کچھہ واقعات و اخلاق در یہ ناظر میں کرائے پوری ہوئی جائیں۔نت اور یہوم برکت ہے جو مویشی مرد خدا نے اپنے مرنے یہ پہلے بنی اسرائیل کو بخشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق وعادات لڑاکین ہی سے ایسے اعلیٰ اور اس نے کہا کہ خداوند سینا سے آیا اور شیر سے ان پر طاوع ہوا خاران ہی کے پہاڑ اور بے نظیر تھے جوآپ کو دیکھتاگر روی نا ہو جاتا آ تمام مکہ میں منار نمایاں تھے عدہ جادہ گر ہوا۔دس ہزارند دسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ میں آپ قریش میں الامین شہر تھے قریش کی محفلوں میں زبان تو ہو۔ادب اور فقر تر لہو اور ایک انشی شریعیت ان کے لئے نہیں، راستشنا با ہ ہیں ؟ فجور ہو تا تا بگہ آپ کی کسی ایسی مغومحفل میں شریک نہیں ہوئے۔قریش میں بڑے نجره مبارکه نه شرقی 5 اور رسولی بینی صدرسول اسلام بڑے صاحب بچہ بہ کار ان صاحب باش و پیش برگ موجود تے گر بڑے بڑے تجربه کاراند علی و کم کی لائی ہوئی سردار اہم واقعات میں آپ سے مشورہ لیتے تھے اند اپنے جھگڑوں میں آپ کو حکم : تعلیم میں نہ ازرا ہے اورنہ تفریط پہلی سیارات اور شریعتوں سے اسم سابقہ افراط بناتے تھے آپ جو مکہ اور مشورہ دیتے اسر چشم اس پر عمل کرتے تھے جس نے آپ تفریطہ بنا کی جسے محروم ہوئیں اور یہ ان ضلالت میں جا نکلیں۔نیز اس سے یہی کی دانشمندی کیا کہ ان کا ہر ہوتا ہے۔مراد ہے کہ طبیعت پاک محمدی میں نہ افراط ہے نہ تفریعا بلکہ درجہ کمال اعتدال و بت پرستی سے آپ کوا یا نفرت تھی آپ گھنٹوں اپنی قوم کی جہالت و حماقت توسط پر ہے یہ جو فرمایا کہ اس سنجر کے رومن سے چراغ جی راکش کیا گیا ہے ہو اور گراہی پر غور کرتے۔افسوس کرتے کبھی پہاڑوں میں جا کر مظا ہر قدرت پر غور جاکر اس میں روغن سے مراد عقل نظیف ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جی اعلان کرتے تو حید ذات پرستی کے منہ میں فرق رہتے جب تھک جاتے تو چھرا ک ہو جاتے و اطاله اند که الات صوری و معنوی آپ کی عقلی کے ہمشہ صافی سے پر زردہ میں اس زید بن حارثہ فرماتے ہیں کہ ایک روز بعثت سے قبل میں رسول اللہ صلی امر میں یہی اشارہ ہے کہ فیضان بھی اطائف محمدیہ کے مطابق ہوں تفصیل اس جہاں صلی الہ علیہ وسلم کے ہمراہ والی سہ میں گیا وہاں آپ کی زمین تمرین نفیل سے ملاقات کی یہ ہے کہ حضور صلعم سے پہلے جتنے بہی نہیں ہو کے ان پر ان کی فطرت کے مطابق ہوئی آپ ان سے بڑے اخلاق سے لے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے جی کا نزول ہوتار ہا جیسا کہ حضرت مریلی علیہ السلام کے مزاج میں جلال : زید ! آپ کی قوم میں ضلالت و نہائت میں مبتلا ہے وہ آپ جانتے ہی ہمیں آپ غضب تھا اس لئے آپ پر شریعت ہیں حلال ہی نازل ہوئی حضرت علی علیہ اس کا کچہ علاج نہیں یہ ہے با زید نے کہا میں پہلے ہی اپنی قوم کی بت پرستی سے السلام کے مزاج میں فلم پر زیاری کو مادہ زیادہ تھا تو اہلے آپ کی شریعت بیزار ہوں۔دین ہی کی تلاش میں شام اور عراق وغیرہ کا مفرد کا حال وہاں کر کا مرکزی نقطہ بھی سلم ونر می تکرار پایا۔اس کے مقابلہ میں ہمارے نبی صلی ایشر تہہ سے ایک منت بین این عالم نےکہا کہ میں ان کا بڑا علمبر دار نقترب مکہ سے ہو گا علیہ وسلم کے مزاج میں تمام اوصاف و اخلاقی کمال اعتدال و توازن کے ساتھ ظاہر ہو گا ان کے قدور کا بارہ طلوا یا ہو کہتا ہے میں اس شوق و انتظار میں پائے جاتے تھے آپ کا مزاج یا روجہ غائت و ضبع استقامت پر تھا۔نرمی کی جنگ لوٹ آیا ہوں اگر پیارے حالات میں کوئی تغیر و انقلاب نہیں دیکھتا۔حیران ہوئی نئی و عنہ ری مفتی کی جگہ منی عید کی جا غنیہ انعام کی جگہ انتقام رحمت کی جا رحمت اور بات مجھ میں نہیں آتی اس کے بعد گفت گفتم پر گنی غضب کی جگہ غصہ یہ غرض یہ کہ حکیمانہ طور پر آپ کی طبیعت سوزدان معتدل اس سے ناظرین بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ صاف و شفاف نہیں ہے آگ روشن نہیں اس لئے ارشاد فرمایا کہ چراغ و حی برقا ان کو اس شجرہ مبارکہ سے روشن ہونے کے لئے کس طرح آمادہ تھا۔کیا گیا ہے کہ نہ شرقی ہے نہ خوبی ہے یعنی قرآن طبیعت معتدل لہ محمدیہ کے مولان نازل ہوا ہے جنہیں نہ مزاج موسیدی کی طرح سختی ہے اور نہ بہشتی ہے اور نہ مزاج اللہ این رسول اللہ کی مبارک زندگی میں ثبوت ملنے سے پہلے ہی انور کے بہت سے اور جمع تھے۔نور عقل اور بصیرت اور عیسوی کی ماند زنی بلکہ یہ نبی رحمت و مصیبت و غضب اور اسلاف نہر کا جامہ ہے نور اخلاقی تمام اور ایمانیاں دکھا رہے تھے اب نور علی نور کا منظر دنیا کے سامنے آتا ہے از مبنی بر آسمانی نور سے مرا گر آنتاب بار است بنتا ہے عقل و منظور کمال اعتدال ہے اور جلال و جمال کا منبع ہے ، که اشر تعالے نے دوسرے مقام پر اسی انا ما معتد بہ خانہ نہ اور جمعیت بصیرت کی نہ تھائی دردست گیری کے لئے آسمانی نور نمودار ہو جاتا ہے یعنی آپ رہنمائی ! قتل وہی کو یوں بیان فرمایا ہے ایک لعلی خلق عظیم کہے گا تو ایک فلوم منتسب بیت پر یا تر جوئے دن انہی کا نزول شروینا ہو گیا گرا جہاں اور ظلمتین نہ ہونے لگیں آسانی نورست زمینی تاریکیوان کو مینڈھ کر نکالنے : ت ار پر کمر بانہ ہیں اور جود باجود خاتم الا بہار کا مجمع الانوار بن گیا۔عظیم پر مخلوق ہے یعنی تو مکارم اخلاق کا ستم مکمل نمونہ ہے کہ اس پر زیاد مقصد ہی نہیں آپ کو پورا پو را نو کی کال چال ہو گیا۔ایسا میں چونے آگ روشن ہو (4) اور تیل ایسا صاف کو اور وحی کے نزول کا فلسفہ ہیں ہے کہ وہ نور پر ہی والد ہوتا ہے تارکی