بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 113
113 " حکیم الامت مجدد الملت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی کو اللہ تعالٰی نے حقیقت میں امت کا نبض شناس اور ان کی اصلاح و علاج کے لئے حکیم بنایا تھا۔آپ حقیقت میں خیلی وقت اور اس دور کے غزالی اور رازی تھے۔گزشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ میں آپ کی مفید و مقبول تصانیف سے ملت اسلامیہ کو جو فوائد حاصل ہوئے وہ ہر دیندار مسلمان پر اظہر من الشمس ہیں۔۔۔۔تصانیف کی طویل فہرست میں ایک بہت اہم اور مفید تصنیف المصالح العقلیہ لاحکام العقلیہ ہے۔جس میں تمام شرعی احکام کی عقلی حکمتیں و مصلحتیں اور احکام الیہ کے اسرار و رموز اور فلاسفی ظاہر کی گئی ہے اور عام فہم انداز میں ثابت کیا ہے کہ تمام احکام شریعت عین عقل کے مطابق ہیں۔کتاب کے تینوں حصوں کی ترتیب فقہی ابواب پر رکھی گئی ہے۔یہ کتاب تقسیم ہند سے قبل ۱۳۶۸ھ میں ادارہ اشرف العلوم (جو دار الاشاعت دیوبند یو پی انڈیا کا ذیلی ادارہ تھا) سے شائع ہو کر قبولیت عام حاصل کر چکی ہے۔لیکن افسوس کہ پاکستان میں اس کی طباعت کا موقع نہ مل سکا۔اب خدا کا شکر ہے کہ یہ کتاب احکام اسلام عقل کی نظر میں" کے عام فہم نام کے ساتھ دار الاشاعت کراچی نمبر سے پھر شائع کی جارہی ہے۔" اس مقبول عام " تصنیف کے اہم ماخذ میں سرفہرست بانی سلسلہ احمدیہ کا لٹریچر ہے جس کے بکثرت فقرے ہی نہیں صفحوں کے صفح خفیف سے تصرف کے ساتھ لفظاً لفظاً زینت کتاب ہوئے ہیں اور اپنی قوت و شوکت کے انوار کی بدولت ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں۔جیسا کہ ہ تفصیل سے عیاں ہو گا۔پنجوقتہ نمازوں کا فلسفہ (۱) حضرت اقدس نے کشتی نوح (ص ۶۵۶۳) میں پنجوقتہ نمازوں کا حسب ذیل 1