بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 114
114 " الفاظ میں نہایت لطیف فلسفہ بیان فرمایا ہے۔حضرت اقدس فرماتے ہیں:۔پنج گانہ نمازیں کیا چیز ہیں۔وہ تمہارے مختلف حالات کا فوٹو ہے۔تمہاری زندگی کے لازم حال پانچ تغیر ہیں۔جو بلا کے وقت تم پر وارد ہوتے ہیں اور تمہاری فطرت کے لئے ان کا وارد ہونا ضروری ہے۔(۱) پہلے جب کہ تم مطلع کئے جاتے ہو کہ تم پر ایک بلا آنے والی ہے۔مثلاً جیسے تمہارے نام عدالت سے ایک وارنٹ جاری ہوا۔یہ پہلی حالت ہے جس نے تمہاری تسلی اور خوش حالی میں خلل ڈالا۔سو یہ حالات زوال کے وقت سے مشابہ ہے۔کیونکہ اس سے تمہاری خوش ہے۔اپر حالی میں زوال آنا شروع ہوا۔اس کے مقابل پر نماز ظہر متعین ہوئی جس کا وقت زوال آفتاب سے شروع ہوتا ہے۔(۲) دوسرا تغیر اس وقت تم پر آتا ہے جب کہ تم بلا کے عمل سے بہت نزدیک کئے جاتے ہو۔مثلاً جب کہ تم بذریعہ وارنٹ گرفتار ہو کر حاکم کے سامنے پیش ہوتے ہو۔یہ وہ وقت ہے کہ جب تمہارا خوف سے خون خشک ہو جاتا ہے اور تسلی کا نور تم سے رخصت ہو جاتا ہے اور نظر اس پر جم سکتی ہے اور صریح نظر آتا ہے کہ اب اس کا غروب نزدیک ہے۔اس روحانی حالت کے مقابل پر نماز عصر مقصود ہوئی۔(۳) تیسرا تغیر تم پر اس وقت آتا ہے جو اس بلا سے رہائی پانے کی کلی امید منقطع ہو جاتی ہے۔مثلاً جیسے تمہارے نام فرد قرار داد جرم لکھی جاتی ہے اور مخالفانہ گواہ تمہاری ہلاکت کے لئے گزر جاتے ہیں۔یہ وہ وقت ہے کہ جب تمہارے حواس خطا ہو جاتے ہیں اور تم اپنے آپ کو ایک قیدی سمجھنے لگتے ہو۔یہ حالت اس وقت سے مشابہ ہے جب کہ آفتاب غروب ہو جاتا ہے اور تمام امیدیں دن کی روشنی کی ختم ہو