بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 97
97 اصلاح ہو کر اس کی ایجاد کا حقیقی مقصد حاصل ہو سکتا ہے۔" ان دونوں عبارتوں اور خصوصاً دیباچہ کی محولہ بالا سطور میں ”انسان کی طبعی، اخلاقی اور روحانی حالتوں" کے الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس معرکہ آرا تاریخی مضمون کی طرف صاف اشارہ کر رہے ہیں جو آج سے اے سال پہلے مورخہ ۲۶ ۲۷ ۲۸ اور ۲۹۔دسمبر ۱۸۹۶ء کو بمقام لاہور منعقدہ جلسہ مذہب عالم میں پڑھا گیا ۲۷-۲ - اور جلسہ میں پڑھے جانے والے دوسرے تمام مضامین پر غالب آکر اسلام کی صداقت و حقانیت اور نمایاں فتح کا ایک روشن نشان بنا۔حضور کا یہ مضمون سب سے پہلے جلسہ اعظم مذہب لاہور کی رپورٹ میں اسی وقت من وعن شائع ہوا اور پھر جماعت احمدیہ کی طرف سے اسے اسلامی اصول کی فلاسفی" کے نام سے کتابی شکل میں شائع کیا گیا۔اب تک اس تاریخی کتاب کے کئی ایڈیشن اردو انگریزی اور دنیا کی متعدد اہم زبانوں میں لاکھوں کی تعداد میں شائع ہو کر اکناف عالم میں شہرت پاچکے ہیں اور دنیا کے بڑے بڑے فلاسفروں اور ملکی و غیر ملکی اخبارات سے شان دار الفاظ میں خراج تحسین حاصل کر چکے ہیں۔مولف "الانسان" نے یوں تو حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض دوسری کتب سے بھی عبارتیں نقل کی ہیں لیکن سب سے زیادہ عبارتیں اسلامی اصول کی فلاسفی" سے بغیر حوالہ کے لی گئی ہیں اور انہیں اپنی مشتمل طرف منسوب کیا گیا ہے۔کتاب الانسان " سبق نمبرا تا ۳۰ کل ۱۷۶ صفحات پر ہیں۔اس کے کل ۱۳۰ اسباق میں سے نو اسباق (یعنی۔سبق نمبر ۵-۱۱-۱۴ تا ۱۹ اور سبق نمبر ۳۰ تو تقریباً پورے کے پورے اسلامی اصول کی فلاسفی" کی عبارات پر مشتمل ہیں۔یہ عبارتیں جو ذرا سی تبدیلی اور الفاظ کے ادنیٰ سے ہیر پھیر کے ساتھ اصل کتاب کے مختلف مقامات سے نقل کر کے یکجا کی گئی ہیں مذکورہ سبقوں میں کہیں تو مسلسل چلتی ہیں اور کہیں ایک آدھ فقرہ درمیان میں حضرت اقدس کی کسی اور کتاب سے نقل کر دیا گیا ہے اور کہیں حضور کی عبارات کا خلاصہ اپنے الفاظ میں دے دیا گیا ہے۔اختصار کے