بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 91
91 تابع ہوتے ہیں۔غرض یہ ثابت ہو جائے کہ قدم صدق اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ جو کچھ اس کا ہے وہ اس کا نہیں بلکہ خدا تعالٰی کا ہو گیا اور تمام اعضاء اور قومی الہی خدمت میں ایسے لگ گئے ہیں گویا وہ جوارح الحق ہیں۔" خزینه معرفت صفحه ۳۱۱۔۳۱۳) ۳۱۳۳۱۱) براہین احمدیہ حصہ پنجم کی عبارت ee کتاب کے درج ذیل اقتباس کے دو شعر ” براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۱۸ سے اور اس کی نثر ضمیمہ صفحہ ۵۷ سے اخذ کئے گئے ہیں۔وہ اسلام چیز کیا ہے خدا کے لئے فنا ترک رضائے خویش پئے مرضی خدا جو مر گئے انہی کے نصیبوں میں ہے حیات اس راہ میں زندگی نہیں ملتی بجز ممات اس مرتبہ پر خدا تعالٰی اپنی ذاتی محبت کا ایک افروختہ شعلہ جس کو دوسرے لفظوں میں روح کہتے ہیں، مومن کے دل پر نازل کرتا ہے اور اس سے تمام تاریکیوں اور آلائشوں اور کمزوریوں کو دور کر دیتا ہے اور اس کی روح کے پھونکنے کے ساتھ ہی حسن جو ادنی مرتبہ پر تھا کمال کو پہنچ جاتا ہے اور ایک روحانی آب و تاب پیدا ہو جاتی ہے اور کثیف زندگی کی کبودگی بکلی دور ہو جاتی ہے اور مومن اپنے اندر محسوس کر لیتا ہے کہ ایک نئی روح اس کے اندر داخل ہو گئی ہے۔جو پہلے نہیں تھی۔اس روح کے ملنے سے ایک عجیب سکینت اور اطمینان مومن کو حاصل ہو جاتا ہے اور محبت ذاتیہ الہیہ ایک فوارہ کی طرح جوش مارتی اور عبودیت کے پودہ کی آبپاشی کرتی ہے۔اور وہ آگ جو پہلے ایک معمولی گرمی کی حد تک تھی۔اس درجہ تک وہ تمام و کمال افروختہ ہو جاتی ہے۔اور انسانی وجود کے تمام خس و خاشاک کو جلا کر الوہیت کا قبضہ اس پر کر دیتی ہے اور وہ آگ تمام اعضاء پر احاطہ کر لیتی ہے۔تب اس لوہے کی مانند جو نہایت درجہ آگ