بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 88
88 وہ اس کے رنگ میں آجاتا ہے اور ظلی طور پر ان سب کمالات کو پالیتا ہے جو اس کو حاصل ہیں اور جو وجود شرانگیز ہے یعنی وجود شیطان جس کا مقام ذو العقول کے قسم میں انتہائی نقطہ انخفاض میں واقعہ ہے۔اس کا اثر ہر ایک دل کو جو اس سے کچھ نسبت رکھتا ہے۔شرک کی طرف کھینچتا ہے۔جس قدر کوئی اس سے منا سبقت پیدا کرتا ہے۔اسی قدر بے ایمانی اور خباثت کے خیال اس کو سوجھتے ہیں۔یہاں تک کہ جس کو مناسبت نام ہو جاتی ہے۔وہ اس کے رنگ اور روپ میں آکر پورا پورا شیطان ہو جاتا ہے اور علی طور ان سب کمالات خباثت کو حاصل کر لیتا ہے۔جو اصلی شیطان کو اصل ہیں۔اسی طرح اولیاء الرحمن اور اولیاء الشیطان اپنی اپنی مناسبت کی وجہ سے الگ الگ طرف کھینچے جاتے ہیں۔اور وجود خیر مجسم جس کا نفسی نقطہ انتہائی درجہ کمال ارتفاع پر واقعہ ہے۔یعنی حضرت محمد مصطفی ملی لی لی لی ہے اس کا مقام معراج خارجی جو منتہائے مقام عروج (یعنی عرش رب العالمین ہے) بتلایا گیا ہے۔یہ در حقیت اس انتہائی درجہ کمال کا ارتفاع کی طرف اشارہ (ہے) جو اس وجود باجود کو حاصل ہے۔گویا جو کچھ اس وجود خیر مجسم کو عالم قضاء و قدر میں حاصل تھا۔وہ عالم مثال میں مشہود و محسوس طور پر دکھایا گیا جیسا کہ اللہ تعالی اس نبی کریم کی شان رفیع کے بارہ میں فرماتا ہے۔و رفع بعضهم درجات پس اس رفع درجات سے وہی انتہائی درجہ کا ارتفاع مراد ہے جو) ظاہری اور باطنی طور پر آنحضرت میلی لیم کو حاصل ہے اور یہ وجود باجود جو خیر مجسم ہے، مقربین کی سب قسموں سے اعلیٰ و کمال ہے۔" (خزینه معرفت صفحه ۲۶۴-۲۶۷) آئینہ کمالات اسلام" کی عبارت حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے "آئینہ کمالات اسلام“ کے صفحہ ۵۷ سے ۷۳ تک اسلام کی لغوی اور اصطلاحی معنوں پر نہایت وجد آفریں انداز میں روشنی ڈالی ہے۔خزینہ معرفت " کا درج ذیل اقتباس اس کے ابتدائی حصے سے نقل کیا گیا ہے۔