بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 87
87 بعيض ذریعہ ہیں جن میں خدا تعالیٰ نے پیش از ظهور ہزار ہا سال اس انسان کامل کا پتہ نشان بیان کر دیا ہے۔پس جس شخص کے دل کو خدا تعالیٰ اپنی توفیق خاص سے اس طرف ہدائت دے گا کہ وہ الہام اور وحی پر ایمان لاوے اور ان پیشگوئیوں پر غور کرے جو بائبل میں درج ہیں۔وہ تو ضرور اسے ماننا پڑے گا کہ وہ انسان کامل جو آفتاب روحانی ہے جس سے نقطہ ارتفاع کا پورا ہوا ہے اور جو دیوار نبوت کی آخری اینٹ ہے۔وہ حضرت محمد مصطفی ملالا لالا مولوی کی ذات پاک ہے جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں۔اب بھی مکرر ظاہر کرتے ہیں کہ انسان کامل بلا تشبیہ خدا تعالیٰ کی ذات کا نمونہ ہے۔خدا تعالیٰ دوسرا خدا ہرگز پیدا نہیں کرتا۔یہ بات اس کی صفت احدیت کے مخالف ہے۔ہاں اپنی صفات کمالیہ کا نمونہ پیدا کرتا ہے اور جس طرح ایک مصفی اور وسیع شیشہ میں صاحب روئت کی تمام و کمال شکل منعکس ہو جاتی ہے۔ایسا ہی انسان کامل کے نمونہ میں الہی صفات عکسی طور پر آجاتے ہیں۔ہم بیان کر چکے ہیں کہ صاحب انتہائی کمال کا جس کا وجود سلسلہ خط خالقیت میں انتہائی نقطه ارتفاع پر واقعہ ہے۔حضرت محمد مصطفی میل میں ہیں اور ان کے مقابل پر وہ خسیس وجود انتہائی جو نقطہ انخفاض پر واقعہ ہے۔اسی کو ہم لوگ شیطان سے تعبیر کرتے ہیں۔اگر چہ بظاہر شیطان کا وجود مشہور و محسوس نہیں۔لیکن اس سلسلہ حد خالقیت پر نظر ڈال کر اس قدر تو عقلی طور پر ضرور ماننا پڑتا ہے۔کہ جیسے سلسلہ ارتفاع کے انتہائی نقطہ میں ایک وجود غیر مجسم ہے۔جو دنیا میں خیر کی طرف ہادی ہو کر آیا۔اسی طرح اس کے مقابل پر ذو العقول میں انتہائی انخفاض میں ایک وجود شرر انگیز بھی جو شرر کی طرف جاذب ہو ضروری چاہئے۔اسی وجہ سے ہر ایک انسان کے دل میں باطنی طور پر دونوں وجودوں کا اثر عام طور پر پایا جاتا ہے۔پاک وجود جو روح الحق اور نور بھی کہلاتا ہے۔یعنی حضرت محمد مصطفی ملی لا لال لال ہے اس کا پاک اثر بخدمات قدسی و توجهات باطنی ہر ایک دل کو خیر اور نیکی کی طرف بلاتا ہے۔جس قدر کوئی اس سے محبت اور مناسبت پیدا کرتا ہے۔۔ای قدر وه ایمانی قوت پاتا ہے اور نورانیت اس کے دل میں پھیلتی ہے۔یہاں تک کہ