بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 83
83 آپ کبھی کسی ایسی لغو محفل میں شریک نہیں ہوئے۔قریش میں بڑے بڑے صاحب تجربہ کار اور صاحب دانش و منیش لوگ موجود تھے مگر بڑے بڑے سردار اہم واقعات میں آپ سے مشورہ لیتے تھے اور اپنے جھگڑوں میں آپ کو حکم بناتے تھے۔آپ جو ا حکم اور مشورہ دیتے بسر و چشم اس پر عمل کرتے تھے۔جس سے آپ کی دانش مندی کا کمال ظاہر ہوتا ہے۔بت پرستی سے آپ کو طبعا نفرت تھی۔آپ گھنٹوں اپنی قوم کی جہالت و حماقت اور گمراہی پر غور کرتے۔افسوس کرتے۔کبھی پہاڑوں میں جا کر مظاہر قدرت پر غور کرتے۔توحید و بت پرستی کے مسئلہ میں غرق رہتے۔جب تھک جاتے تو گھر آکر سو جاتے۔حضرت زید بن حارثہ فرماتے ہیں کہ ایک روز بعثت سے قبل میں رسول کریم ملا لیا اور امی کے ہمراہ حوالی مکہ میں گیا وہاں آپ کی زید بن عمر بن نفیل سے ملاقات ہوئی۔آپ ان سے بڑے اخلاق سے ملے۔رسول اللہ صلی علی مولوی نے فرمایا۔اے زید ! آپ کی قوم جس ضلالت و خباثت میں مبتلا ہے وہ آپ جانتے ہی ہیں آپ اس کا کچھ علاج نہیں سوچتے؟ زید نے کہا میں پہلے ہی اپنی قوم کی بت پرستی سے بیزار ہوں۔دین حق کی تلاش میں شام اور عراق وغیرہ کا سفر کر چکا ہوں۔وہاں مجھے ایک متدین مسیحی عالم نے کہا کہ دین کا سب سے بڑا علمبردار عنقریب مکہ سے ظاہر ہو گا۔اس کے ظہور کا ستارہ طلوع ہو چکا ہے۔میں اسی شوق و انتظار میں لوٹ آیا ہوں مگر یہاں حالات میں کوئی تغیر و انقلاب نہیں دیکھتا۔حیران ہوں کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی۔اس کے بعد گفتگو ختم ہو گئی۔اس سے ناظرین بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ صاف و شفاف تیل بے آگ روشن ہونے کے لئے کس طرح آمادہ تھا۔نور فائض ہوا نور پر رسول اللہ کی مبارک زندگی میں نبوت ملنے سے پہلے ہی بہت سے نور جمع تھے۔