بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 81 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 81

81 آپ نے اپنی علم و عقل کی تابناکی سے امت کو وہ شریعت غراء دی ہے جس کے تمام شریعتیں ماند پڑ گئیں۔آپ ہی کی شریعت کاملہ ہے جس نے زندگی کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کر دیا اور اپنوں بیگانوں کے سامنے روحانی و مادی ترقی کے سب اصول و قوانین رکھ دیئے۔آپ کی شریعت کی بنیاد نیکی اور عدل پر ہے۔آپ کی بعثت سے تمام روئے زمین کے لئے عام خیر و برکت کا دروازہ کھل گیا اور تورات کی پیش گوئی پوری ہوئی۔اور یہ وہ برکت ہے جو موسی مرد خدا نے اپنے مرنے سے پہلے اسرائیل کو بخشی اور اس نے کہا کہ خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا۔فاران ہی کے پہاڑ جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ میں ایک ނ آتشی شریعت ان کے لئے تھی۔(استثناء باب (۳۳) صلی شجرہ مبارکہ نہ شرقی ہے اور نہ غربی یعنی محمد رسول اللہ ا ل ا ل ل ل وی کی لائی ہوئی تعلیم میں نہ افراط ہے اور نہ تفریط۔پہلی تعلیمات اور شریعتوں سے اہم سابقہ افراط و تفریط ہی کی وجہ سے محروم ہو ئیں اور میدان ضلالت میں جا نکلیں۔نیز اس سے یہ بھی مراد ہے کہ طینت پاک محمدی میں نہ افراط ہے نہ تفریط بلکہ بدرجہ کمال اعتدال و توسط پر ہے۔یہ جو فرمایا کہ اس شجر کے روغن سے چراغ وحی روشن کیا گیا ہے، سو اس میں روغن سے مراد عقل لطیف ہے یعنی آنحضرت مال کے جمیع اخلاق فاضلہ اور کمالات صوری و معنوی آپ کی عقل کے چشمہ صافی سے پروردہ ہیں۔اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ فیضان وحی لطائف محمدیہ کے مطابق ہوا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حضور صلعم سے پہلے جتنے بھی نبی ہوئے ان پر ان کی فطرت کے مطابق وحی کا نزول ہوتا رہا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مزاج میں جلال و غضب تھا اس لئے آپ پر شریعت بھی جلالی ہی نازل ہوئی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مزاج میں حلم و بردباری کا مادہ زیادہ تھا اس لئے آپ کی شریعت کا مرکزی نقطہ بھی حلم و نرمی قرار پایا۔اس کے مقابلہ میں ہمارے نبی میل کے مزاج میں تمام