بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 80 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 80

80 ایک طاق میں چراغ طلاق سے مراد رسول اکرم علی و و و و ویلی کا سینہ مبارک اور چراغ سے مراد وحی الہی ہے۔پھر فرمایا کہ چراغ ایک شیشہ کی قندیل میں ہے جو نہایت مصفی ہے یعنی نہایت پاک و مقدس دل اپنی اصل فطرت میں صاف و شفاف شیشہ کی طرح ہر قسم کی کدورتوں سے اور ہر نوع کی کثافتوں سے منزہ و مطہر ہے۔مطلب یہ کہ آپ کا سینہ صافی تعلقات ماسوی بکلی پاک ہے اس میں غیر اللہ کی محبت خوف و عظمت و جلال کا مطلق گذر نہیں۔یہی وہ سینہ ہے جس سے دنیا میں علوم و سعادت کے چشمے پھوٹیں گے اور فکری و عملی گمراہیوں کے خس و خاشاک کو بہالے جائیں گے۔ذہنی اور دلی امراض کا آپ قلع قمع کریں گے اور انسانوں کے دلوں کو صاف کر کے ان میں الا اللہ کے نقوش ثبت کر اللہ سے دیں گے۔شیشہ کی صفائی یا سینہ محمدی کی آب و تاب کو فرمایا کہ گویا آسمانی ہدایت کا ایک روشن ستارہ ہے یعنی آپ کا دل ایسا منور اور درخشندہ ہے کہ اس کی اندرونی درخشندگی بیرونی قالب پر پانی کی طرح بہتی ہوئی نظر آتی ہے۔چراغ زیتون کے روغن سے روشن کیا گیا ہے ا فرمایا۔وہ چراغ زیتون کے شجرہ مبارکہ سے روشن کیا گیا ہے۔شجرہ مبارکہ سے مراد وجود محمدی ہے جو تناسب اعضاء جامعیت و کمال اور انواع و اقسام کی برکتوں اور دل کشیوں کا مجموعہ ہے۔جس کا فیض کسی سمت کسی زبان اور کسی کے لئے مخصوص نہیں بلکہ تمام انسانوں ، تمام ملکوں اور تمام زمانوں کے لئے عام اور جاری ہے جو قیامت تک کبھی منقطع نہ ہو گا۔آپ پر ایمان لانے والے اپنی بے بصیرتی ، کور ذوقی، بد قسمتی اور محرومی سے پست و ذلیل ہو جائیں تو ہو جائیں مگر آپ کا اسوہ حسنہ بدستور افق عالم پر ضیا ریز رہے گا اور مسلمانوں کو ترقی و کامیابی اور فلاح و نجات کی طرف بلاتا رہے گا۔