بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 76
76 اور اثر ہے تو صاف ظاہر ہے کہ چند روز کے استعمال کے بعد ہی اس کی مفید تاثیریں معلوم ہونے لگیں گی لیکن اگر اس میں کوئی خوبی اور تاثیر نہیں ہے تو خواہ ساری عمر اسے استعمال کرتے جاؤ کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔اس معیار پر اسلام اور دوسرے مذاہب کی سچائی اور حقیقت کا بہت جلد پتہ لگ جاتا ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو اپنی تاثیر اور انوار و برکات کے لئے کسی گذشتہ قصہ کا حوالہ نہیں دیتا اور نہ صرف آئندہ کے وعدوں ہی پر رکھتا ہے۔بلکہ اس کے پھل اور آثار ہر وقت اور ہر زمانے میں پائے جاتے ہیں اور اس دنیا میں ایک سچا مسلمان ان ثمرات کو کھا لیتا ہے۔بتلاؤ ایسے مذہب انسان کو کیا امید دلا سکتے ہیں جن میں تو بہ تک منظور نہیں۔ایک گناہ کر کے جب تک کروڑوں جو نیں نصیب نہ ہو لیں خدا سے صلح نہیں ہو سکتی۔وہاں انسان کیا پائے گا۔اس کی روح کو راحت اور تسلی کیونکر مل سکے گی۔مذہب کی سچائی کی بڑی علامت یہ ہے کہ اس راہ سے دور افتادہ خدا کے نزدیک آجاتا ہے۔جیسے جیسے وہ نیک عمل کرتا جائے اسی قدر تاریکی دور ہو کر معرفت اور روشنی آتی جاوے اور انسان خود محسوس کرے کہ وہ نجات کی ایک یقینی راہ پر جا رہا ہے۔اس کی ہدایتیں ایسی صاف اور واضح ہوں کہ انسان ان کے ماننے اور اس پر عمل کرنے میں پورے طور پر تیار ہوں۔بھلا یہ بھی کوئی تعلیم اور اصول ہے کہ ذرہ ذرہ کو خدا قرار دے دیا جاوے۔خدا ازلی ابدی ہے اسی طرح پر ذات عالم اور ارواح کو ازلی ابدی تسلیم کیا جاوے۔اگر ایسا کوئی خدا ہے کہ جس نے ایک ذرہ بھی کسی قسم کا پیدا نہیں کیا تو اس پر بھروسہ کیسا۔اس کا ہم پر حق کیا ہے جو عبادت کریں۔کیونکر عبادت کے لئے حق ہی تو ہونا چاہئے۔جب کوئی حق ہی نہ ہو تو ایک ذرہ ذرہ اسے کہہ سکتا ہے۔کہ تیرا ہم پر کیا حق ہے؟ اس عقیدہ کو رکھ کر انسان کس طرح پر خدا پرست ہو سکتا ہے۔بلکہ میرے نزدیک خدا کی ہستی پر دلیل ہی قائم نہیں ہو سکتی۔اگر آریوں سے کوئی دہریہ یہ پوچھے کہ پر میٹر کی