بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 70
70 ۲۷۔ابوالکلیم "مولانا" ولی الدین فاضل " مبلغ ختم نبوت" حیدر آباد دکن بھارت ہفت روزہ "ختم نبوت" کراچی (مورخه ۲۵ تا ۳۱ مارچ ۱۹۸۸ء) کے صفحہ ۱۶ تا ۱۸ و ۳۰ میں حیدر آباد دکن کے " مبلغ ختم نبوت" ولی الدین فاضل صاحب کی ایک تحریر ختم نبوت اور قادیانی وسوسے " کے زیر عنوان شامل اشاعت ہوئی ساری تحریر "رد قادیانیت" میں تھی مگر اس کا اختتام حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے درج ذیل شعر پر ہوا۔بر نفس پاکش ہر کمال ختم شد لا جرم شد ختم پیغمبرے ہر (صفحه ۳۰ کالم نمبر ۳) یعنی آنحضرت میں کے پاک نفس پر ہر کمال ختم ہو گیا اسی طرح حضور پر پیغمبروں کا بھی خاتمہ ہو گیا۔اور یہی خاتمیت محمدی کی عارفانہ تفسیر ہے جیسا کہ حضرت مولانا جلال الدین رومی ارشاد فرماتے ہیں:۔بهر این خاتم شد ست او که بجود مثل او نے بود و نے خواهند بود نکہ 1 صنعت برد استاد نے تو گوئی ختم صنعت دست تو است پر مثنوی کے مشہور فاضل مترجم جناب قاضی سجاد حسین صاحب دہلوی کے الفاظ میں ان اشعار کا ترجمہ یہ ہے کہ :۔اسی لئے وہ خاتم بنے کیونکہ سخاوت میں ان جیسا نہ تھا اور نہ ہوں گے۔جب کوئی استاد کاریگری میں بازی لے جاتا ہے کیا تو نہیں کہتا کہ کاریگری اس پر ختم ہے۔" ( مثنوی مولوی معنوی دفتر ششم صفحه ۳۰ نا شر الفیصل ناشران و تاجران کتب