بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 55
ہیں۔55 يا بحر فضل المنعم المنان تهوی الیک الزمر بالكيزان اے منعم ومنان کے فضل کے سمند ر لوگ کو زے لئے تیری طرف آ رہے ہیں۔يا شمس ملك الحسن والاحسان نورت وجه البر والعمران اے حسن و احسان کے ملک کے آفتاب تو نے ویرانوں اور آبادیوں کا چہرہ روشن کر دیا۔قوم راوک وامة قد اخبرت من ذلك البدر الذي اصباني ایک قوم نے تجھے آنکھ سے دیکھا اور ایک قوم نے اس بدر کی خبریں سنیں جس نے مجھے اپنا دیوانہ بنایا ہے۔يبكون من ذكر الجمال صبابة وتالما من لوعة الهجران اور آپ کے جمال کو یاد کر کے اشتیاق سے روتے ہیں اور جدائی کی جلن سے دکھ اٹھا کر (چلاتے ہیں) وارى القلوب لدى الحناجر كربة وارى الغروب تسيلها العينان میں دلوں کو (غم سے) گلوں تک آپہنچے ہوئے اور آنسوؤں کے نالے بنے ہوئے دیکھتا ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں۔يا من غدا في نورة وضيائه كالنيرين و نور الملوان