بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 48
48 یکدے روبسوئے گورستان و از خموشان آن به پرس نشاں تھوڑی دیر کے لئے قبرستان میں جا اور وہاں کے مردوں سے حال پوچھ۔که مال حیات دنیا چیست ہر کہ پیدا شدست تا کے زیست کہ دنیاوی زندگی کا انجام کیا ہے اور جو پیدا ہوا وہ کب تک جیا ہے۔ترک کن کین و کبر و ناز و دلال تا نه کارت کشد بسوئے ضلال کینہ ، تکبر، فخر اور ناز چھوڑ دے تاکہ تیرا خاتمہ گمراہی پر نہ ہو۔چوں ازین کار گہ به بندی بار باز نائی دریس بلاد بلاد و جب تو اس دنیا سے اپنا سامان باندھ لے گا تو پھر ان شہروں اور ملکوں میں واپس نہیں آئے گا۔و دیار اے ز دیں بے خبر بخور غم دیں کہ نجاتت معلق ست بدیں اے دین سے بے خبر دین کا غم کھا۔کیونکہ تیری نجات دین سے ہی وابستہ ہے۔ہاں تغافل مکن ازین غم خویش که ترا کار مشکل است به پیش خبردار اپنے اس غم سے غفلت نہ کیجیو کیونکہ تجھے مشکل کام در پیش ہے۔ا دل ازین درد و غم نگار بکن دل چه جاں نیز ہم ثار بکن اپنے دل کو اس درد و غم سے زخمی کر۔دل کیا بلکہ جان بھی قربان کر دے۔ہست کارت ہمہ ہاں یک ذات چون صبوری کنی از و بیهات تیرا واسطہ تو اسی ایک ذات سے ہے افسوس ہے کہ پھر اس کے بغیر کیونکر تجھے صبر آتا ہے۔مثل مردارے چوں سگے ہر طرف طلبگارے این جهان است یہ دنیا تو مردار کی طرح ہے اور اس کے طلبگار کتوں کی طرح اسے چمٹے ہوئے ہیں۔خنک آں مرد کو ازیں مردار روئے آرد ہوئے آں داوار شخص خوش قسمت ہے جو اس مردار سے بیچ کر اپنا منہ خدا کی طرف پھیرتا ہے۔اے رسن ہائے از کرده دراز میں ہوس با چرا نیائی باز وہ۔