بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 4 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 4

4 عالم ہے مکدر کوئی دل صاف نہیں ہے اس عہد میں سب کچھ ہے پر انصاف نہیں ہے اسی بحر میں مرزا دبیر فرماتے ہیں۔دل صاف ہو کس طرح کہ انصاف نہیں ہے انصاف ہو کس طرح کہ دل صاف نہیں ہے ذیل کے دونوں مصرعے بھی بالکل ہم مضمون ہیں۔لیکن دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔انیں۔ناقہ یہ بھی کوئی نہ برابر سے گذر جائے د بیر:۔ناقہ پہ بیٹھ کر نہ ادھر کوئی آنے پائے (موازنہ انیس و دبیر صفحه ۲۸۹٬۲۸۶) جناب میر کا ایک شعر ہے۔بہار آئی، گل پھول سر جوڑے نکلے رہیں باغ میں کاش اس رنگ ہم تو ای رنگ کا ایک شعر نشی امیر مینائی کے قلم سے ملاحظہ ہو۔فصل گل آئی ہے یوں ہم تم ملیں اے گلیدن جیسے کلیاں نکلی ہیں شاخوں سے سر جوڑے ہوئے شعر الهند حصہ اول صفحه ۳۰۴) میر کہتے ہیں۔دلخراشی و جگر چاکی و خون افشانی ہوں تو ناکام پہ رہتے ہیں مجھے کام بہت ای مضمون کو امیر نے یوں باندھا ہے۔رات دن رونا تڑپنا تلملانا پیٹنا ہیں تو ہم ناکام پر رہتا ہے کاموں کا ہجوم