بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 3
3 آغاز سخن بیسویں صدی کا علمی شاہکار" چمنستان علم و ادب کی سب بہاریں ، رونقیں اور بزم آرائیاں افادہ اور استفاده کے فطری اصولوں کی بدولت قائم ہیں اور ہر علمی تخلیق اور ادبی شہ پارہ ، تہذیب و تمدن کے عروج وارتقاء کی محض بنیادی اینٹ ہی نہیں، نشان منزل بھی ہے اور چراغ راہ بھی۔ایک صاحب طرز ادیب، قادر الکلام انشاء پرداز عالی پایہ شاعر اور بالغ نظر مفکر و متکلم کی عظیم شخصیت اپنی دقت نظر جامعیت ہمہ گیری اور نکتہ آفرینی کے اعتبار سے جس شان کی حامل ہوتی ہے اسی شان کے ساتھ اس کے قلم کی تاثیرات آفاق کی وسعتوں میں پھیلتی چلی جاتی ہیں۔عوام و خواص میں اس کے نظریات کی پذیرائی ہوتی ہے۔بے شمار دماغوں پر اسی کی حکمرانی ہوتی ہے اور اس کے محاوروں اصطلاحوں اور صنائع بدائع کو قبول عام کی سند حاصل ہوتی ہے۔اور اس کا فکری اور علمی ورثہ متاخرین کے لئے سرمایہ حیات بن جاتا ہے اور اس کا شمار انسانیت کے عظیم محسنوں میں، ہوتا ہے اور یوں ایک چراغ سے ہزاروں لاکھوں چراغ روشن ہوتے چلے جاتے ہیں۔علم و عرفان بحرنا پیدا کنار ہے اور انسانی ذہن اور دماغ افکار و خیالات کی گزرگاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔استاذ ازل نے ترقی کے زینے سبھی کے لئے کھلے رکھے ہیں۔اس لئے بعض اوقات تاجداران سخن کے کلام میں توارد ہو جاتا ہے جس کی بہت سی دلچسپ مثالیں تاریخ ادب میں ملتی ہیں۔مثلاً علامہ شبلی نعمانی، میرانیس اور مرزا دبیر کے متحد المضمون مرثیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ ایک مرضیہ میں میرانیس نے فخر کے ساتھ زمانہ کی ناقدری کی شکایت کی تھی۔اس کا ایک بیت یہ ہے۔