بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 25
25 ۹ - مخدوم حکیم محمد اعظم ملتانی شاہی حکیم والی ریاست لسبیلہ بلوچستان 19 جولائی ۱۹۰۳ء کا واقعہ ہے کہ مخدوم محمد اعظم صاحب نے دلی کے "مجلہ طیبہ کے ایڈیٹر کے نام حسب ذیل مکتوب مع اشعار کے ارسال کیا۔اپنے احباب و دیگر معزز ناظرین کی اشتیاق و تحریص پیدا کرانے اور طب و حکمت کی اشاعت کی طرف توجہ دلانے کے واسطہ یہ چند اشعار تیار کرائے گئے ہیں۔امید ہے کہ آپ ان کو بھی درج رسالہ فرما دیں گے اور میرے رفیق ان اشعار کو عزت کی نگاہ سے ملاحظہ فرماویں گے اور ان کو پرانی جنتری کی طرح بیکار نہیں تصور فرمائیں گے۔" ا۔بکوشید اے جوانان تا به طب قوت شود پیدا اشعار << اندر روضه حکمت شود پیدا ۲- اگر یاران کنون بر غربت این علم رحم آرید کمال اتفاقی و خلت و الفت شود ۳۔بجنبید از پئے کوشش که از درگاه ربانی ز بهر ناصران طب زحق نصرت شود پیدا۔اگر امروز فکر عزت طب در شمار جوشد شمار والا رتبت و عزت شود پیدا ۵- اگر دست عطا در نصرت این علم بکشاید هم از بهر شما ناگه ید قدرت شود پیدا زبذل مال در حکمت کے مفلس نے گردد خدا خود می شود ناصر اگر ہمت شود پیدا ے۔دو روزه عمر خودور کار طب کو شہداے یاراں زصد نومیدی ویاس والم رحمت شود پیدا - امید طب روا گردان امید تو روا گردد زصد تمیدی دیاس والم رحمت شود پیدا باخوان طبابت ہیں کہ چون شد کار تا دانی که از تائید طب صد چشمه دولت شود پیدا ۱۰ بجو از جان و دل تاخد متی از دست تو آید بقائے جاوداں یابی گراین شربت شود پیدا 11۔مفت این اجر نصرت راد ہندت اے ائی ورنہ قضائے آسمان ست این بهر حالت شود پیدا