بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 213 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 213

• T 213 YAY کتاب الاسلام ایک لطیف اشارہ ہے کہ انسان کو کسی ضروری کام میں تاخیر کرنی چاہیئے اور ایک نت کا کام دوسرے وقت پر نہ اٹھا رکھنا چاہیے۔لا تؤخر عمر البو ملغد آج کا کام کل پر نہ چھوڑو۔پنجگانہ اوقات ترتعیین کی وجہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں نماز کے پنجگانہ اوقات کی خصوصیت کی فلاسفی اورحقیقت سمجھانے کے لیے اوقات خمسہ کے اوصاف موثر کی طرف توجہ دلاتی ہے ارشاد ہوتا ہی نسحانَ اللهِ حِيْنَ بُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ ، وَلَهُ الحمد في السموات و الأَرْضِ وَعَشِيَّا وَحِينَ تُظهِرُونَ دینے شام صحیح، پچھلے وقت اور دوپہر کو خدا کی یاد کا وقت ہے اور زمین و آسمان میں اسوقت ندا کی خوبیاں بیان کی جاتی ہیں۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ ان اوقات میں آسمان وزمین کے اندر تغیرات عطیہ واقع ہوتے میں جنکی وجہ سے خدا تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کا موقعہ آتا ہے اور ان تغیرات کا اثر انسان کے جسم بروح دونوں پر واقع ہوتا ہے الغرض بچگانہ نمازیں کیا ہیں۔انسان کے مختلف حالات کا فوٹو میں یعنی انسان کے حالات میں پانچ غیر رونا ہوتے ہیں اور فطرت انسانی کے لیے ان کا واقع ہونا ضرور ہے تفصیل ذیل میں درج ہے: وجہ تعیین نماز نہ مرتا ہے :- تم کو جسوقت اطلاع ملتی ہے کہ تیر کوئی مصیبت یا بالا آنے والی ہے مشک عدالت سے وارنٹ جاری ہونے والا ہے کوئی الی خسارہ یا جانی فوراً نقصان ہو نیوالا ہے تو تم پریشان حال ہو کر چاہتے ہو کہ کسی نہ کسی طرح یہ بلا سر سے لمجائے تو اچھا ہے۔انسان کی یہ مصیبت کی حالت زوال کے مشابہ ہے کیونکہ اس سے خوشی کے زوال پر استدلال کیا جاتا ہے۔آفتاب انتہار ترقی پہ پہنچ کر آہستہ آہستہ انحطاط کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔دن کی ترقی ختم ہوکر کر رہی شروع ہو جاتی ہے اس لیئے اسوقت ظہر کی نماز مقرر کی گئی جس کا وقت زوال آفتار ہے شروع ہوتا ہے تاکہ جس کے قبضہ میں وہ زوال ہے اُس کی قدرت کو یاد کر کے اسی کی طرف توجہ کیا ہے۔آنحضرت نے زوال کی ساعت کے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ اسمیں آسمان کے دروازے کھلتے ہیں، اسلئے میں پسند کرتا ہوں } +۔