بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 21 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 21

21 ے۔شرک کو دل سے دور کرتا ہے کبر و نخوت کو چور کرتا ہے سینے میں نقش حق جماتا ہے دل سے غیر خدا اٹھاتا عشق حق کا پلاتا ہے یہ جام۔بحر حکمت سے ۱۔کلام تمام ہے ہیں دل کے اندھوں کی ہے دوا یہ ہی سرمہ ہے بس خدا نما یہ ہی۔اس کے منکر جو بات کہتے ہیں سر بسر واہیات کہتے ۱۲۔دل سے حق کو بھلا دیا ہیہات دل کو پتھر بنا لیا بیمات مولانا صاحب نے اصل اشعار میں جہاں جہاں ترمیم کی ہے۔کوثر و تسنیم میں دھلے ہوئے کلام کا حسن غارت ہو گیا ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی پوری نظم میں عیسائیوں سے خطاب ہے اور اس کے آخری چار شعر یہ ہیں:۔اس کے منکر جو بات کہتے ہیں ہی اک واہیات کہتے ہیں یوں بات جو ہو که میرے میرے مشهد 85 پر مجھے بات اس دلستاں کا حال سنیں بنادیں مجھ سے وہ صورت جمال سنیں خیر کان یوں ہی امتحان سی آنکھ پھوٹی تو نه سی 2 ۶۔۔شاعر اہلحدیث مولانا ندیم کو موی۔گوشہ ادب ٹوبہ ٹیک سنگھ۔۔اخبار "تنظیم اہلحدیث " لاہور مورخہ ۳۰ جون ۱۹۶۱ء کے صفحہ اول پر جلی اور نمایاں حروف سے مولانا ندیم صاحب کی یہ نظم اشاعت پذیر ہوئی:۔ز عکر سب نے ملاحة ہوں دستی 170 كتاب هذا )