بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 206
206 بنی فرما کہتا ہے کہ غلطیاں بھی بہادر ہوتی ہے۔اور تم شیعوں کا عقیدہ اب عصمت انبیاء کیسے برقرار رہا اور اگرنی کا قلم دوات مانگنا حکم خدا اور حرکت الیہ تھا۔تو اس کو پوراکیوں نہ کیا جواب ۵۸ حضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نسبت صحابیہ کا بلا شبہ یہ اعتقاد تھا۔کہ آنجناب کا کوئی فعل اور کوئی قول وحی الہی کی آمیزش سے خالی ہیں۔گردہ وحی مجمل ہو یا مفصل شخصی ہو یا جلی بہین ہو یا مشتبہ۔یہاں تک کہ جو کچھ آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاص معاملات و مکالمات حکومت وستر میں ہیولیوں سے تھے یا جس قدر کی اور کی رب اور لباس کے متعلق اور معاشہ کی ضروریات میں روزمرہ کے نقائگی اور تھے۔سب اس خیال سے احادیث میں داخل رکئے گئے ہیں کہ وہ تمام کام اور کام نر م القدس کی روشنی سے ہیں چنانچہ ابوداؤد میں یہ حدیشیا موجود ہے۔عن عبد الله بن عمر قال كنت اكتب كل شي اسمر من رسول اللہ صلی الله عليه وسلم اريد حفظه فنهى فرش و قالوا انكتب كل شي تسمعه درسول الله بشر تيكلم في الغضب والرضا نا سكتت عن الكتاب فذكرت ذالك الى رسول الله قال فادها با صبحد الى نيه فقال اكتب نوالي عانف بيدى لا تخرج عند الأحق۔ابوداؤد جلد دوم منها ترجمہ عبید الدین عمر سنائیت کرتے ہیں کہ میں جو کچھ آنحضرت سے سنتا تھا لکھ لینا تھا۔تا کہ میں اس کو حفظ کر لوں۔پر بعض نے مجھ کو منع کیا۔کہ ایس یا مت کرو کیونکہ رسول اللہ بشر ہیں کبھی منصب سے کبھی کلام کرتے ہیں۔تو میں یہ بات سن کر لکھنے سے دستکش ہو گیا۔اللہ اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ذکر کیا۔تو آپ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم میسن کے قبضہ میں محمد کی جان ہے۔کہ جو کچھ میرے منہ سے صادر ہوتا ہے جواہ وہ قول ہو یا ہاتھوں سے فعل ہو وہ سب خدا کی طرف سے ہے۔اور حق ہے۔اس حدیث سے مریم ہو گیا۔دین مکمل کرنا خدا کا کام تھا۔اورنبی کریم کا کاغذ قلم ودات مانگنا شرکت الہیہ اور حکم خدا تھا۔حضرت۔ہے بیمار ہو یا شک رستہ عید اللہ کا عقیدہ تھا کہ نبی پر حال میں خوب اور بنی کریم کی طرف ندیان کی نسبت کرنے والا بھی میرے خیال میں جانتا ہو گا۔کہ بنی ہرحال حق کہتا ہے۔پردہ کوئی اور ہی چیز کھتی جو فلم دنات پیغمبر کو حد دینے دیتی تھی جن کی حمایت