بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 201 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 201

+ ارشادات 201 ۲۶۷ پاب مد و رفع بعضهم در بیت پر اس رفع درجات سے وہی انتہائی درجہ کا ارتفاع مراد جوظاہری اور باطنی طور انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔ار یہ وجود با خود جو ہر کسیم ہے۔مقربین کی سب قسموں سے اعلیٰ و کمال ہے۔نیزه حقیقت کمال اقر محمدیه بر حضرت شیخ اکبر رحمتہ اللہ نے آیت، تم مَّا أَدْنَا فَتَدَ لَى مُكَانَ قَابَ قَوْسَيْنَ أَوْ أَدْ میں حقیقت کمالات قرب محمدیہ کا اشارہ فرمایا ہے۔لہذا پہلے ہم اس آیت شریف کا ترجمہ کرتے ہیں۔اور پھر اس کی تشریح ہوگی۔ترجمہ " پھر نزدیک یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللہ تعالیٰ سے پھر نیچے کی طرف اترا یعنی مخلوق کی طرف تبلیغ احکام کے لئے نزول کیا۔پس اس بہت سے کہ وہ اوپر کیطرف صعود کر کے انتہائی درجہ قرب تام کو پہنچا۔اند اس میں اور حق میں کوئی حجاب نہ رہا ہے اگر زیادہ دیکھنا ہو تو شرح فتوحات لکیر میں دیکھو۔بسم الله الرحمن الرحیم وہ پیشین گوئیاں ازرو سے پاکبل یہ ہیں جن کی طرف حضرت شیخ اکبر رضہ نے اشارہ کیا ہے پیشگوئی ۱- با کمیل کتاب استثنا باس ۳ آئت ۱-۲۔اور یہ وہ برکت جو سونٹے مرد خدا نے اپنے مرنے سے آگے بنی اسرائیل کو بخشی (۲) اور اس نے کہا۔کہ خدا وند سینا سے آیا۔اور شعیر سے اُن پر طلوع ہوا۔قارئین کی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا۔اور اس کے داہنے ہاتھ مں ایک آتشی شرعیت ان کے لئے تھی" (مولف، اس کی تشریح ، سینا سے آنے سے مراد موسیٰ علیہ السلام اور شعیر سے خداوند کے آنے سے مصطفے راد حرت جیسے علیہ اسلام ہیں باقی تمام پیش گوئی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگا کے بارے میں ہے۔جو دس ہزار صحابہ کے پہاڑ سے فاران والوں پر حلوہ م رضی اللہ عنہا کے ساتھ فاراد کر ہوئے۔آتشی شریعت سے مراد نورانی اور آسمانی شریعت ہے۔کیونکہ سو سے علیہ السلام نے آگ میں سے خدا :