بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 200
اب 200 خط یہ بات اس کی صفت احدیت کے مخالف ہے۔ہاں اپنی صفات کمالیہ کا نمونہ پیدا کرتا ہے اور میں طرح ایک صفی اور وسیع شیشہ میں صاحب روئت کی تمام و کمال شکل منعکس ہو جاتی ہے۔ایسا ہی انسان کامل کے نمونہ میں الہی صفات عکسی طور پر آجاتے ہیں۔ہم بیان کر چکے ہیں کہ صاحب انتہائی کمال کا جس کا وجود سلسلہ فقط خالقیت میں انتہائی نقطہارتفاع پر واقعہ ہے۔حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اور ان کے مقابل پر خون میں وجود جو انتہائی نقطہ انخفاض پر واقعہ ہے۔اسی کو ہم لوگ شیطان سے تعبیر کرتے ہیں۔اگرچہ بظاہر شیطان کا وجود مشہور ومحسوس نہیں۔لیکن اس سلسلہ صد خالقیت پر نظر ڈال کر اس قدر تو عقلی طور پر ضرور مانا پڑتا ہے۔کہ جیسے سلسلہ ارتفاع کے انتہائی فقط یں ایک وجود غیرمجسم ہے۔جو دنیامیں خیر کی طرف ہادی ہو کر آیا۔اسی طرح اس کے مقالب پر ذو العقول میں انتہائی انخفاض میں ایک وجود شر انگیر بھی جوشر کی طرف جاذب ہو ضروری چاہیئے ایسی جہ سے ہر ایک انسان کے دل میں بالٹی طور پر دونو وجودوں کا ار عام طور پر پایا جاتا ہے۔پاک وجود جو روح التی اور نور بھی کہلاتا ہے۔یعنی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اس کا پاک اثر بخدمات قدسی و توجهات باطنی پر ایک دل کو خیر اور نیکی کی طرف بلاتا ہے۔جس قدر کوئی اس سے محبت اور مناسبت پیدا کرتا ہے۔اسی قدر وہ ایمانی قوت پاتا ہے۔اور نورانیت اس کے دل میں پھیلتی ہے۔یہاں تک کہ وہ اُمن کے رنگ میں آجاتا ہے۔اور فلی طور پر اُن سب کمالات کو پالیتا ہے۔جو اس کو حاصل ہیں اور جو جو دختر انگیز ہے بینی وجو د شیطان میں کا مقام ذو العقول کے قسم میں انتہائی نقطہ انخفاض میں واقعہ ہے۔اس کا اثر ہر ایک دل کو جو اس سے کچھ نسبت رکہتا ہے۔شرک کیطرف کھینچتا ہے جس قدر کوئی اس سے مناسبت پیدا کرتا ہے۔اسی قدر بے ایمانی اور خباثت کے خیال اس کو سو مجھتے ہیں۔یہاں تک جس کو مناسبت نام ہو جاتی ہے۔وہ اس کے رنگ اور روپ میں آکر پورا پورا شیطان ہو جاتا ہے۔اور عملی طور ان سب کمالات خباثت کو حاصل کر لیتا ہے۔جو اصلی شیطان کو حاصل ہیں۔اسی طرح اولیای ارت اور اولیا شیطان اپنی اپنی مناسبت کی وجہ سے الگ الگ طرف کھینچے جاتے ہیں۔اور وجو د خیر حجیم میں کا نفسی نقطہ انتہائی درجہ کمال ارتفاع پر واقعہ ہے۔یعنی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اس کا مقام معراج خارجی جو منتہائے مقام عروج دینی عرش رب العالمین ہے، بلایا گیا ہے۔یہ درحقیقت اس انتہائی درجہ کمال کا ارتفاع کیطرف اشارہ جو اس وجو د باجود کو حاصل ہے۔گویا جو کچھ اس وجود دختر جسم کو عالم قضا و قدر میں حاصل تھا۔وہ عام شان یں مشہور محسوس طور پر کھایا گیا جیسا کہ اللہ تعالی نبی کریم کی کی شان رفیع کے بارہ میں فرماتا ہے