بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 199
پاپ 199 240۔ارشادات میں آفتاب کو ایک عظیم الشان اور نافع اور ڈی برکت وجود پیدا کیا ہے۔کیطرف ارتفاع میں اس کے برابر کوئی ایسا وجود نہیں ہے بسوا اس سلسلہ کے ارتفاع اور انخفاض پر نظر ڈال کر و ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔روحانی سلسلہ ہے جو اُسی کے ہاتھ سے نکلا ہے۔اور اُسی عادت اللہ ظہور پذیر ہوا ہے۔خود بلا تامل مجھ میں آتا ہے کہ وہ بھی بلا تفاوت اسی طرح واقعہ ہے۔اور یہی ارتفاع اور انخفاض اس میں بھی موجود ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے کام یکرنگ اور یکساں ہیں۔اس لئے کہ واحد ہے۔اور اپنے اصدار وافعال میں توحید کو دوست رکہتا ہے۔پریشانی اور اختلاف اس کے کاموں میں راہ نہیں پاسکتا۔اور خود یہ کیاہی پیارا، اور موزون طریق معلوم ہوتا ہے۔کہ خدا تعالیٰ کے کام باقاعدہ اور ایک ترتیب سے مرتب اور ایک سیلک میں منسلک ہوں۔اب جبکہ ہم نے ہر طرح سے ثبوت پا کر بلکہ بالبداہت دیکہ کر خدا تعالے کے اس قانون قدرت کو مان لیا۔کہ اس کے تمام کام کیا روحانی اور کیا جسمانی پریشان اور مختلف طور پر نہیں ہیں جن میں یونہی گڑبڑا پڑا ہوا ہو۔بلکہ ایک حکیمانہ ترتیب سے مرتب اور ایک ایسے باقاعدہ سلسلہ میں بند ہے۔جو ایک ادنیٰ درجہ سے شروع ہو کر انتہائی درجہ تک پہنچتا ہے۔اور یہی طریق وحدت اُسے محبوب بھی ہے۔تو اس قانون قدرت کے ماننے سے ہمیں یہ بھی مانا پڑا کہ جیسے خدا تعالیٰ نے جہادی سلسلہ میں ایک ذرہ سے لیکر اس وجود اعظم تک مینی آفتاب تک نوبت پہنچائی ہے۔جوظاہری کمالات کا جامعہ ہے جس سے بڑیکر اور کوئی حیم جاری نہیں۔ایسا ہی روحانی آفتاب بھی کوئی ضرور ہو گا جس کا وجود خود تقسیم مثالی میں ارتفاع کے اخیر نقطہ پر واقعہ ہو ا تفتیش اس بات کی کہ وہ کامل انسان جس کو روحانی آفتاب سے تعبیر کیا گیا ہے۔وہ کون ہے اور اس کا کیا نام ہے ؟ جن کا تصفیہ مجرد عقل سے ہوسکے کیونکہ بجز خدا تعالیٰ کے یہ امتیاز کس کو حاصل ہو اور کون موتوں سے ایسا کام کر سکتا ہے۔کہ خداتعالے کے کاور ہا اور بے شمار بندوں کو نظر کے سامنے رکھ کر اور ان کی روحانی طاقتوں اور قدرتوں کا موازنہ کر کے سب سے بڑے کو الگ کر کے دکھلا دے بلاشہ معیقلی طور پ کسی کو اس جگہ دم مارنے کی گنجائش نہیں ہے۔ہاں ایسی بلند اور عمیق دریافت کے لئے کتاب الہامی ذریعہ ہیں جن میں خدا تعالیٰ نے پیش از ظہور ہزار ہا سال اس انسان کامل کا پتہ نشان بیان کر دیا ہے پس جس شخص کے دل کو خدا تعالیٰ اپنی توفیق خاص سے اس طرف ہدائت دیگا۔کہ وہ الہام اور وحی پرایمان لاوے۔اور ان پیش گوئیوں پر غور کرے۔جو بائبل میں درج ہیں۔توضرور اُسے ماننا پڑیگا۔کہ وہ انسان کامل جو افتاب روحانی ہے جس سے نقطہ ارتفاع کا پورا ہوا ہے۔اور جو دیوار نبوت کی آخری انیٹ ہے وہ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک ہے جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں۔اب بھی بکر رظاہر کرتے ہیں۔کہ انسان کامل بلا تشبیہ خدا تعالیٰ کی ذات کا نمونہ ہے۔خدا تعالیٰ دوسرا خدا ہرگز پیدا نہیں کرتا