بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 166 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 166

166 بات کا بھی اہتمام رکھیں کہ جو کچہ حرف شناس ہوکر اردو زبان پڑھنے سمجنے لگے اسکو اول ترجمہ قرآن کا ہی دیں تا کہ وہ قرآن شریف کے لفظی معنے سمجہ ہے۔تاکہ : ان علماء کے تمام اقوال سے یہ بات صاف ظاہر ہے انکا مقصود سب عوام سلمانوں کو ترجمہ قرآن مجید مدرسوں میں پڑنا نا صاف لفظوں میں واضح ہے، محتاج بیان نہیں۔یہ گر تجربہ ہواہے کہ تاجروں کے لڑکے عربی علوم حاصل کرنے کے لئے صرف و نحو شروع کرتے ہیں اسکے قوانین یاد کرنے کی شکلات سے گہرا کر نعیم کو چوڑا کر ملی مقصد سے دور ہو جاتے ہیں لہذا ہم چاہتے ہیں کہ بغیرصرف ونح کے ترج کے ساتھ قرآن مجید کی علم دینی ضروری ہے۔کیونکہ اردو ترجمہ خواں کے لئے صرف ونحو کی مطلق ضرورت نہیں ہے البتہ صرف ونحو و غیره علوی الہ کی شرط اون طلباء کے لئے مخصوص ہے جو ابی علوم سے فارغ ہو کر زمرہ ملا ہی شامل ہونا چا ہیں تعلیم قرآن مجید اردو ترجمہ خواں کے لئے صرف و نحو کے خیال کو ضرور دل سے الگ کر دینا چاہے کیونکہ اس خیال نے سلانوں کو عظیم قرآن سے محروم کر رکہا ہے۔فقط و السلام مع الاکرام وصف قرآن مجید کیا ہی اسلام کا خورشید دل آراز یکا دیکھو شب قدر میں قرآن چمکتا نکلا، کیا ہی اسلا حق کے اس نور کا کوئی بھی نہ پہنتا بجا نور فرقاں ہے سب نوروں کا جلا بنگلا پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا شرک اور کفر کی ظلمت سے تھا نہ میری یا ظلم و عصیاں و خباثت میں پھنسی تھی وہ اند بحر و بر پگڑے تھے اور ساری زمیں تھی مردم حق کی توحید کا مرحبا ہی چلا تھا پود ہے ناگہاں غیب سے یہ چشمہ اصفا نکلا، دین دونیا میں و مطلوب بنی آدم سے سارے اسرار و دقائق کا یہ بیں خاتم ہے معرفت اور حقائق کا یم اعظم ہے یا اپنی تیرا قرآن ہے کہ ایک عالم ہے جو ضروری تھا وہ سب اسیں مہیا نکلا طبیبوں سے ملے سے دور میں پوچھیں ایسا عرفان کا نسخہ نہ ملا او ی پر لئے امریکہ و افریقہ تا چین سب جہان جہان کے ہے پرند