بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 167 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 167

167 جسے عرفاں کا بس ایک ہی شیشہ نکلا نہیں قرآن کی اس کون و مکان میں شبیر نظر فطرت وہ اعجازی نشان میں تشبیہ ہے نہیں اسکی کی عظمت و شان میں تشبیر کس سے اس نور کی تمکن ہے جہاں جو باشید وہ تو ہر بات میں ہر و صف میں بیکت نکلا اسکے ہر نکند میں ہے نورانی کا ظہور اسکے انوار سے مومن کا ہے سینہ معمور اسکے جلوہ سے ہیں تاریکیاں سائز کا فور ہے تصور اپنا ہی اند مون کا وگرنہ وہ نور ایسا چکا ہے کہ مدنیہ بیضا نکلا ایسے خورشید پر انوار سے جو دور رہیں وہ تو اندھوں سے بھی بدتر ہیں جو بے نور ہیں روح مردہ ہوی انکی تو یہ ہم صاف کہیں زندگی ایسوں کی میں خاک ہے اس دنیا میں جن کا اس نور کے ہوتے بھی دل اعملی بیکلا جس کو اللہ کا ملنا ہو جہاں میں مطلوب وہی قرآن کو یہ کہتا ہے ہمیشہ محبوب سب غذاوں سے ہی دل کی غذا ہی مرغوب الله الله ہے یہ عرفان کا نسخہ کیا خوب اجنک ایسا نہ شانی کوئی نسخہ نکلا کون کہتا ہے کہ قرآن ہے محمل صامت اس کا ہر قول معضل ہے وہ تبیاں نکلا اور کہتے ہیں کہ قرآن کی سمجہ ہے مشکل اس کا ہر لفظ مضر ہے وہ آسان نکلا۔پاک وہ جس سے یہ انواز کا دریا زنگلا دیگرا قرآن ہے وہ دین کہ جس سے خدا ملے اس پر پہلے جو شخص وہ اللہ سے ملے استہ اسی سے سید نا اللہ کا ہے ہے یہ طرفتی جس سے رہ کیہ یا ہے۔مثل اسکی کوئی لا سکے امکان ہی نہیں جو اتباع قرآن کے ایمان ہی نہیں قرآن ہے وہ نور کہ جس کا نہیں جو اب دنیا میں اسکی مشکل ہی کوئی نہیں کتاب حاصل تھیں اس سے قیمتیں نجی و سجی اب اعمال بہ سے ہو گئیں لیکن وہ سب خراب حسوس کس کو کہو دیا ہجات کیا کیا ایمان کی توبہ سے بہت ہی برا کیا یہ کہتا رہا تھا ہم سبکو اتفاق افسوس تم نے کر یا آپس میں ہی نفاق :