بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 158 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 158

158۔مخالفانہ اسباب کو پیدا کر دیتا ہے۔اسی لئے یہ بات ارباب کشف و کمال کے نزدیک بڑے بڑے تجارب سے ثابت ہو چکی ہے کہ کامل دعا میں ایک قوت تکوین پیدا ہو جاتی ہے یعنی بازنہ تعالٰی وہ دعا عالم سفلی اور عالم علوی میں تصرف کرتی ہے اور عناصر اور اجرام فلکی اور انسانوں کے دلوں کو اس طرف لے آتی ہے جو طرف مئوید مطلوب ہے۔خدا تعالی کی پاک کتابوں میں اس کی نظریں کچھ کم نہیں ہیں بلکہ اعجاز کی بعض اقسام کی حقیقت بھی دار صل استجابت دعا ہی ہے اور جس قدر ہزاروں معجزات انبیاء سے ظہور میں آئے یا جو کہ اولیاء ان دنوں تک عجائب کرامات دکھلاتے رہے ان کا اصل اور منبع یہی دعا ہے اور اکثر دعاؤں کے اثر سے ہی طرح طرح کے خوارق قدرت قادر کا تماشہ دکھلا رہے ہیں۔" (صفحه ۱۶۱۱۶۰) مندرجہ بالا حوالہ میں جو عبارت "دعا کی ماہیت" سے شروع ہو کر " تماشا دکھلا رہے ہیں" کے الفاظ تک جا پہنچی ہے لفظاً لفظاً حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام کی شہرہ آفاق تصنیف ” برکات الدعا" کے صفحہ ۰۹ا سے ماخوذ ہے۔یہ کتاب حضور انور نے مولف کتاب کے مراقبہ" سے ۹۴ سال قبل شائع فرمائی تھی اس کے طبع اول کے سرورق پر تاریخ طباعت رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ لکھی ہے جو سمسی کیلنڈر کی رو سے مارچ اپریل ۱۸۹۳ء بنتی ہے۔" آگے لکھا ہے کہ :۔حضرت بابا جی نے جس انداز میں لمبی لمبی عبادات کے ساتھ دعائیں کی ہیں اس سے روشنی ملتی ہے کہ محض رسمی طور پر دعا کر لیتا کوئی چیز نہیں جب تک قلب و روح پگھل کر دعا کو ایک خاص چمک نہ دے رہے ہوں۔اس لئے یہ مت خیال کرو کہ ہم ہر روز دعا کرتے ہیں اور تمام نماز دعاہی ہے جو ہم پڑھتے ہیں کیونکہ وہ دعا جو معرفت کے بعد اور افضل کے ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے اور رنگ اور کیفیت رکھتی ہے وہ فنا کرنے والی چیز ہے۔وہ گداز کرنے والی آگ ہے۔وہ رحمت کو کھینچنے والی ایک مقناطیسی کشش ہے۔وہ ایک