بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 154 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 154

154 11 کتاب کے عالی مقام مصنف نے مقدمہ کتاب میں یہ دعوئی فرمایا ہے کہ جہاں بابا جی کی سوانح پر شائع شدہ دیگر کتابوں میں ضعیف روایات پر مبنی غیر ثقہ باتیں " شامل کر دی گئی ہیں وہاں ان کی تالیف مضطرب دعاؤں کے " پر مشقت مراقبہ " کے بعد حضرت باباجی کی زیارت اور رہنمائی میں لکھی ہے۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے۔" مزار پر حاضری کے ساتھ ہی مضطرب دعاؤں اور التجاؤں کا سلسلہ شروع ہوا۔ایک انتہائی پر مشقت مراقبہ کے دوران خود حضرت بابا جی نے شفقت فرمائی اور جلوہ افروز ہو کر میرے نہاں خانہ ، قلب و روح کے ہر ذرہ کو منور و روشن کر دیا جس کے ساتھ ہی مجھے مخاطب کر کے فرمایا:۔تمہیں میرے ذکر پر مشتمل کتابوں کی غلط باتیں دیکھ کر جو دکھ ہوتا ہے تم خود کچی باتیں جمع کر کے میری سیرت کیوں نہیں لکھتے۔جاؤ میری سیرت پر کتاب لکھو۔عالم لاہوت کے شہباز کی یہ خواہش میری کاوشوں کا نقطہ آغاز بن گئی۔بعد میں کئی دفعہ کی زیارت ، مسلسل راہنمائی نے مقام فرید کی ترتیب میرے لئے آسان کر دی اور یہ فقیر حق فرید یا فرید کے نعرے الاپتا ہوا اس مشن کی تکمیل میں لگ گیا۔خدا شاہد ہے کہ میں جو بات بھی لکھتا ساتھ کبھی ایسا معلوم ہو تاکہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی اس سے کٹا ہوا ہوں اور قدم قدم پر یہی لگتا کہ کوئی طاقت اپنے تصرف میں لے کر مجھ سے ہر بات لکھوا رہی ہے۔میری اس کیفیت کو سالکان طریقت ہی جان سکتے ہیں " (صفحہ ۱۳۱۲) سوانح حیات کا خاتمہ حضرت بابا جی کے اظہار خوشنودی کی بشارت کے انکشاف پر ہوتا ہے۔چنانچہ مولف محترم تحریر فرماتے ہیں:۔