بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 121 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 121

121 پھر اس کے مقابلہ سے ملتا ہے۔یعنی جس میں بچہ کی طرح وہ قوت ہی نہیں رہی۔اس کا کیا ثواب ملے گا۔کیا بچہ کو اپنی عفت کا ثواب مل سکتا ہے۔ان آیات میں خدا تعالٰی نے خلق احصان یعنی عفت کے حاصل کرنے کے لئے صرف اعلیٰ تعلیم ہی نہیں فرمائی بلکہ انسان کو پاک دامن رہنے کے لئے پانچ علاج بھی بتلا دئے ہیں۔یعنی یہ کہ اپنی آنکھوں کو نامحرم پر نظر ڈالنے سے بچانا۔کانوں کو نامحرموں کی آواز سننے سے بچانا۔نامحرموں کے قصے نہ سننا اور ایسی تمام تقریبوں سے جن میں اس بد فعل کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہو اپنے تئیں بچانا۔اگر نکاح نہ ہو تو روزہ رکھنا وغیرہ۔اس جگہ ہم بڑے دعوئی کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ اعلیٰ تعلیم ان سب تدبیروں کے ساتھ جو قرآن شریف نے بیان فرمائی ہیں صرف اسلام ہی سے خاص ہے اور اس جگہ ایک نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے اور وہ یہ ہے کہ چونکہ انسان کی وہ طبعی حالت جو شہوات کا منبع ہے جس سے انسان بغیر کسی کامل تغیر کے الگ نہیں ہو سکتا یہی ہے کہ اس کے جذبات شہوت محل اور موقع پا کر جوش مارنے سے رہ نہیں سکتے۔یا یوں کہو کہ سخت خطرہ میں پڑ جاتے ہیں۔اس لئے خدائے تعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم نہیں دی کہ ہم نامحرم عورتوں کو بلا تکلف دیکھ تو لیا کریں اور ان کی تمام زینتوں پر نظر ڈال لیں اور ان کے تمام انداز ناچنا وغیرہ مشاہدہ کر لیں لیکن پاک نظر سے دیکھیں اور نہ یہ تعلیم ہمیں دی ہے کہ ہم ان بیگانہ جوان عورتوں کا گانا بجانا سن لیں۔اور ان کے حسن کے قصے بھی سنا کریں لیکن پاک خیال سے نہیں۔بلکہ ہمیں تاکید ہے کہ ہم نامحرم عورتوں کو ان کی زینت کی جگہ کو ہرگز نہ دیکھیں نہ پاک نظر سے اور نہ ناپاک نظر سے اور ان کی خوش الحانی کی آوازیں اور ان کے حسن کے قصے ہر گز نہ سئیں نہ پاک خیال سے اور نہ ناپاک خیال سے بلکہ ہمیں چاہئے کہ ان کے سنے اور دیکھنے سے نفرت رکھیں جیسا کہ مردار سے تا ٹھو کر نہ کھاویں کیونکہ ضرور ہے کہ بے قیدی کی نظروں سے کسی وقت ٹھوکریں پیش آویں۔سو چونکہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہماری آنکھیں اور دل ہمارے خطرات سب پاک رہیں اس لئے اس نے یہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم فرمائی۔اس میں کیا شک ہے کہ