بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 122
122 بے قیدی ٹھوکر کا موجب ہو جاتی ہے۔اگر ہم بھوکے کتے کے آگے نرم نرم روٹیاں رکھ دیں اور پھر ہم امید رکھیں کہ اس کتے کے دل میں خیال تک ان روٹیوں کا نہ آوے تو ہم اپنے اس خیال میں غلطی پر ہیں۔سو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ نفسانی قومی کو پوشیدہ کارروائیوں کا موقع بھی نہ ملے۔اور ایسی کوئی بھی تقریب پیش نہ آئے جس ـ بد خطرات جنبش کر سکیں۔اسلامی پردہ کی یہی فلاسفی اور یہی ہدایت شرعی ہے۔خدا تعالیٰ کی کتاب میں پردہ سے یہ مراد نہیں کہ فقط عورتوں کو قیدیوں کی طرح حراست میں رکھا جائے۔یہ ان نادانوں کا خیال ہے جن کو اسلامی طریقوں کی خبر نہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ عورت مرد دونوں کو آزاد نظر اندازی اور اپنی زینتوں کے دکھانے سے روکا جائے کیونکہ اس میں دونوں مرد اور عورت کی بھلائی ہے۔بالاخر یہ بھی یاد رہے کہ خوابیدہ نگاہ سے غیر محل پر نظر ڈالنے سے اپنے تئیں بچا لینا اور دوسری جائز النظر چیزوں کو دیکھنا۔اس طریق کو عربی میں غض بصر کہتے ہیں اور ہر ایک پرہیز گار جو اپنے دل کو پاک رکھنا چاہتا ہے، اس کو نہیں چاہئے کہ حیوانوں کی طرح جس طرف چاہے بے محابا نظر اٹھا کر دیکھ لیا کرے بلکہ اس تمدنی زندگی میں غض بصر کی عادت ڈالنا ضروری ہے اور یہ وہ مبارک عادت ہے جس سے اس کی یہ طبعی حالت ایک بھاری خلق کے رنگ میں آجائے گی اور اس کی تمدنی ضرورت میں بھی فرق نہیں پڑے گا۔یہی وہ خلق ہے جس کو احصان اور عفت کہتے ہیں۔" (اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ ۳۰٬۲۷ ( طبع اول ۱۸۹۷ء) اسلامی نکاح کا فلسفہ - حضرت اقدس کی کتاب "آریہ دھرم " کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس میں حضور نے متعدد مقامات پر اسلامی نکاح کی حقیقی فلاسفی پر سیر حاصل بحث کی ہے جس سے اسلام کے ازدواجی نظام کی برتری روز روشن کی طرح نمایاں ہو جاتی ہے۔اس سلسلہ میں آریہ دھرم کے تین اقتباسات ہدیہ قارئین کرتا ہوں۔ان میں اول الذکر "