بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 120
120 سے بچائیں۔یعنی ان کی پر شہوات آوازیں نہ سنیں اور اپنے ستر کی جگہ کو پردہ میں رکھیں اور اپنی زینت کے اعضاء کو کسی غیر محرم پر نہ کھولیں اور اپنی اوڑھنی کو اس طرح سر پر لیں کہ گریبان سے ہو کر سر پر آجائے۔یعنی گریبان اور دونوں کان اور سر اور کنپٹیاں سب چادر کے پردہ میں رہیں اور اپنے پیروں کو زمین ناچنے والوں کی طرح نہ ماریں۔یہ وہ تدبیر ہے کہ جس کی پابندی ٹھوکر سے بچا سکتی ہے۔اور دوسرا طریق بچنے کے لئے یہ ہے کہ خدائے تعالی کی طرف رجوع کریں اور اس سے دعا کریں تا ٹھوکر سے بچاوے اور لغزشوں سے نجات دے۔زنا کے قریب مت جاؤ۔یعنی ایسی تقریبوں سے دور رہو جن سے یہ خیال بھی دل میں پیدا ہو سکتا ہو اور ان راہوں کو اختیار نہ کرو جن سے اس گناہ کے وقوع کا اندیشہ ہو۔جو زنا کرتا ہے وہ بدی کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔زنا کی راہ بہت بری ہے۔یعنی منزل مقصود سے روکتی ہے اور تمہاری آخری منزل کیلئے سخت خطرناک ہے اور جس کو نکاح میسر نہ آوے چاہئے کہ وہ اپنی عفت کو دوسرے طریقوں سے بچاوے۔مثلاً روزہ رکھے یا کم کھاوے یا اپنی طاقتوں سے تن آزار کام لے اور لوگوں نے یہ بھی طریق نکالے ہیں کہ وہ ہمیشہ عملاً نکاح سے دست بردار ہیں یا خوجے نہیں اور کسی طریق سے رہبانیت اختیار کریں مگر ہم نے انسان پر یہ حکم فرض نہیں کئے اس لئے وہ ان بدعتوں کو پورے طور پر نبھا نہ سکے۔خدا کا یہ فرمانا کہ ہمارا یہ حکم نہیں کہ لوگ خوبے بنیں۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر خدا کا حکم ہوتا تو سب لوگ اس حکم پر عمل کرنے کا مجاز بنتے تو اس صورت میں بنی آدم کی قطع نسل ہو کر کبھی کا دنیا کا خاتمہ ہو جاتا اور نیز اگر اس طرح پر عفت حاصل کرنی ہو کہ عضو مردمی کاٹ دیں تو یہ در پردہ اس صانع پر اعتراض ہے جس نے یہ عضو بنایا اور نیز جب کہ ثواب کا تمام مدار اس بات میں ہے کہ ایک قوت موجود ہو اور پھر انسان خدائے تعالی کا خوف کر کے اس قوت کے خراب جذبات کا مقابلہ کرتا رہے اور اس کے منافع سے فائدہ اٹھا کر دو طور کا ثواب حاصل کرے۔پس ظاہر ہے کہ ایسے عضو کو ضائع کر دینے میں دونوں ثوابوں سے محروم رہا۔ثواب تو جذ بہ مخالفانہ کے وجود اور۔۔۔