بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 117
117 1 ہی پہلو پر زور دیا گیا ہے۔علاوہ اس کے دعوئی تو ایسی تعلیم کا ہے کہ ایک طرف طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دیں مگر اس دعوی کے موافق عمل نہیں ہے۔مثلاً ایک پادری صاحب کو کوئی طمانچہ مار کر دیکھے کہ پھر عدالت کے ذریعہ سے وہ کیا کارروائی کراتے ہیں۔پس یہ تعلیم کس کام کی ہے جس پر نہ عدالتیں چل سکتی ہیں۔نہ پادری چل سکتے ہیں۔اصل تعلیم قرآن شریف کی ہے جو حکمت اور موقعہ شناسی پر مبنی ہے۔مثلاً انجیل نے تو یہ کہا کہ ہر وقت تم لوگوں کے طمانچے کھاؤ اور کسی حالت میں شر کا مقابلہ نہ کرو مگر قرآن شریف اس کے مقابل پر یہ کہتا ہے۔جزاء سینه سینه مثلها فمن عفا واصلح فاجره على الله - یعنی اگر کوئی تمہیں دکھ پہنچا دے۔مثلاً دانت توڑ دے یا آنکھ پھوڑ دے تو اس کی سزا اسی قدر بدی ہے جو اس نے کی لیکن اگر تم ایسی صورت میں گناہ معاف کر دو کہ اس معافی کا کوئی نیک نتیجہ پیدا ہو اور اس سے کوئی اصلاح ہو سکے۔یعنی مثلاً مجرم آئندہ اس عادت سے باز آ جائے تو اس صورت میں معاف کرنا بھی بہتر ہے اور اس معاف کرنے کا ا خدا سے اجر ملے گا۔اب دیکھو اس آیت میں دونوں پہلو کی رعایت رکھی گئی ہے اور عفو او ر انتقام کو مصلحت وقت سے وابستہ کر دیا گیا۔سو یہی حکیمانہ مسلک ہے جس پر نظام عالم کا چل رہا ہے۔رعایت محل اور وقت سے گرم اور سرد دونوں کا استعمال کرنا یہی عقلمندی ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ ہم ایک ہی قسم کی غذا پر ہمیشہ زور نہیں ڈال سکتے بلکہ حسب موقع گرم اور سرد غذا ئیں بدلتے رہتے اور جاڑے اور گرمی کے وقتوں میں کپڑے بھی مناسب حال بدلتے رہتے ہیں۔ነ