بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 116 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 116

116 اسلام کا فلسفہ اخلاق حضرت اقدس اپنی مشہور کتاب «نسیم دعوت میں اسلام کے فلسفہ اخلاق پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ: "انسان کی فطرت پر نظر کر کے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو مختلف قوئی اس غرض سے دیئے گئے ہیں کہ تاوہ مختلف وقتوں میں حسب تقاضا محل اور موقعہ کے ان قویٰ کو استعمال کرے۔مثلاً انسان منجملہ اور خلقوں کے ایک خلق بکری کی فطرت سے مشابہ ہے اور دوسرا خلق شیر کی صفت سے مشابہت رکھتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ انسان سے یہ چاہتا ہے کہ وہ بکری بننے کے محل میں بکری بن جائے اور شیر بننے کے محل میں شیر ہی بن جائے اور جیسا کہ وہ نہیں چاہتا کہ ہر وقت انسان سوتا ہی رہے یا ہر وقت جاگتا ہی رہے یا ہر دم کھاتا ہی رہے یا ہمیشہ کھانے سے منہ بند رکھے۔اسی طرح وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ انسان اپنی اندرونی قوتوں سے صرف ایک قوت پر زور ڈال دے اور دوسری قوتیں جو خدا کی طرف سے اس کو ملی ہیں ان کو لغو سمجھے۔اگر انسان میں خدا نے ایک قوت حلم اور نرمی اور درگزر اور صبر کی رکھی ہے تو اسی خدا نے اس میں ایک قوت غضب اور خواہش انتقام کی بھی رکھی ہے۔پس کیا مناسب ہے کہ ایک خدا داد قوت کو تو حد سے زیادہ استعمال کیا جائے اور دوسری قوت کو اپنی فطرت میں سے بکلی کاٹ کر پھینک دیا جائے۔اس سے خدا پر اعتراض آتا ہے کہ گویا اس نے بعض قوتیں انسان کو ایسی دی ہیں جو استعمال کے لائق نہیں۔کیونکہ یہ مختلف قوتیں اسی نے تو انسان میں پیدا کی ہیں۔پس یاد رہے کہ انسان میں کوئی بھی قوت بری نہیں ہے بلکہ ان کی بد استعمال بری ہے۔سوانجیل کی تعلیم نہایت ناقص ہے جس میں ایک