بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 112
112 لا تعدلوا اعدلوا هو اقرب للتقوى اے مسلمانو کسی گروہ کی مخالفت تم کو اس بات پر نہ آمادہ کر دے کہ تم بے انصافی پر اتر آؤ۔انصاف پر قائم رہو کہ یہی قرین تقوی ہے۔کے حکم پر عمل کے کیا معنی ہیں۔یہ موضوع اس ایک بار نہیں بار بار مختلف صحبتوں میں چھڑا۔مولانا نے جب جب تنقید فرمائی۔علمی اور : بلند ہی رنگ میں فرمائی۔۔۔۔ذاتی طنز و تشنیع کے فقرے ایک بار کے بھی یاد نہیں پڑتے۔" سچی باتیں" صفحہ ۲۱۳ از علامه عبد الماجد دریا بادی مرحوم۔ناشر۔نفیس اکیڈمی اسٹریچن روڈ کراچی نمبرا طبع دوم اگست ۱۹۸۲ء) مولانا تھانوی کے اسی مسلک کے پیش نظر علامہ دریا آبادی نے ایک سنی المشرب عالم دین کا فاضلانہ مقالہ شائع کیا جس میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ عقیدہ ختم رسالت میں ہمارا احمدیوں سے اختلاف صرف شخصیت میں ہے۔” دونوں ہی مسیح موعود کی نبوت کے قائل ہیں۔دونوں ہی کا عقیدہ ہے کہ خاتم المرسلین " کے بعد مسیح موعود نبی ہو کر آئیں گے۔اب یا تو دونوں ہی ختم نبوت کے منکر ہیں یا دونوں ہی اس الزام سے بری ہیں۔مرکزی نقطہ مسیح موعود کی نبوت ہے اور اس پر دونوں ہی کا اتفاق ہے۔" صدق جدید لکھنو ۵ نومبر ۱۹۶۵ء صفحہ ۷ ) ان چند تعارفی الفاظ کے بعد ہم بتاتے ہیں کہ مولانا اشرف علی صاحب تھانوی کی ایک مشہور کتاب ہے احکام اسلام۔عقل کی نظر میں۔عکس صفحات 26 تا 220 کتاب خدا پرا " یہ کتاب پہلی بار تقسیم ہند سے قبل دار الاشاعت دیوبند (یوپی) کے ذیلی ادارہ اشرف العلوم نے شائع کی تھی اور بہت مقبول ہوئی۔پاکستان میں اس کی اشاعت مئی ۱۹۷۸ء میں ہوئی۔جناب مولانا محمد عثمانی صاحب نے جن کے زیر اہتمام پاکستانی ایڈیشن زیور طبع سے آراستہ ہوا، ناشر کی حیثیت سے اس کے صفحہ ۴ پر حسب ذیل نوٹ لکھا۔