بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 111
111 سیوطی کے زمرے میں شامل کئے جاسکتے ہیں۔" (انسائیکلو پیڈیا جلد صفحہ ۱۷۱) مولانا مرنجان مرنج طبیعت کے حامل بزرگ تھے۔آپ کا شمار برصغیر کے ان مشاہیر علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے تحریک پاکستان کے دوران سنہری خدمات انجام دیں۔آپ نزاعی مباحث اور اختلافی مسائل کو متانت تحمل اور کھلے دل سے غور و فکر کے خوگر تھے اور اپنے عقائد میں متشدد ہونے کے باوجود اعتدال کا دامن کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔(الا ماشاء اللہ) ۲۱ رمضان المبارک ۱۳۵۰ھ (۲۹) جنوری ۱۹۳۲ء) کا ذکر ہے کہ آپ کی مجلس " میں ایک صاحب نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے دعوی نبوت کا ذکر کیا " فرمایا آپ تو نبوت کے دعوی پر اس قدر تعجب کر رہے ہیں لوگوں نے خدائی کے دعوے کئے ہیں۔" الافاضات الیومیہ حصہ اول صفحه ۲۶۶ مطبوعه اداره تألیفات اشرفیہ، جامعہ اشرفیه فیروز پور روڈ لاہور) علامہ عبد الماجد دریا بادی فرماتے ہیں:۔" غالبا ۱۹۳۰ء تھا۔حکیم الامت تھانوی کی محفل خصوصی میں نماز چاشت کے وقت حاضری کی سعادت حاصل تھی۔ذکر مرزائے قادیانی اور ان کی جماعت کا تھا اور ظاہر ہے ذکر " ذکر خیر" نہ تھا۔حاضرین میں سے ایک صاحب بڑے جوش سے بولے۔حضرت ان لوگوں کا دین بھی کوئی دین ہے نہ خدا کو مانیں نہ رسول کو۔حضرت نے معالجہ بدل کر ارشاد فرمایا کہ " یہ زیادتی ہے توحید میں ہمارا ان کا کوئی اختلاف نہیں۔اختلاف رسالت میں ہے اور اس کے بھی صرف ایک باب میں یعنی عقیدہ ختم رسالت میں۔بات کو بات کی جگہ پر رکھنا چاہئے۔جو شخص ایک جرم کا مجرم ہے یہ تو ضرور نہیں کہ دوسرے جرائم کا بھی۔" ارشاد نے آنکھیں کھول دیں اور صاف نظر آنے لگا۔يايها الذين امنوا لا يجرمنکم شنان قوم علی ان