بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 110
110 استقامت ، ترک دنیا ص ۱۱۰۸٬۱۱۰۷ اسلامی اصول کی فلاسفی ص ۶۷۶۶۴۶۵ قرآنی مفہوم ص ۱۰۹ الغایت ۱۱۱۲ اسلامی اصول کی فلاسفی ص ۹۸٬۶۸۶۷ اسلامی اصول کی فلاسفی ص ۹۹ تا ۱۰۲ پہلا وسیلہ لغایت ساتواں وسیلہ جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کی گو مولف محترم نے سیدنا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی کتب کا حوالہ دینا کسی جگہ بھی مناسب نہیں خیال فرمایا۔تاہم مولف مذکور نے حضور علیہ السلام کے پیش فرمودہ علوم کو اپنی کتاب میں جگہ دے کر ان کی اشاعت میں حصہ لیا ہے۔اس لحاظ سے ہم ان کے ممنون ہیں۔حضور کے پیش کرده فرموده علوم ہی در حقیقت موجودہ زمانہ میں اسلام اور قرآن پاک کی حقیقی فضیلت ثابت کر سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ تعالٰی کے فضل سے مقبول ہو رہے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ ابھی اس کا اعتراف کرنے سے گریز کیا جاتا ہے" (روزنامه المصلح کراچی ۲۳ فروری ۱۹۵۴ء صفحه ۳) ۷ مجد والملت، حکیم الامت جامع المجددین "مولانا" اشرف علی صاحب تھانوی ولادت ۱۲ ربیع الاول ۱۲۸۰ھ مطابق ۱۹ مارچ ۱۸۶۳ ء وفات ۱۶ رجب ۱۳۶۲ھ بمطابق ۱۹ جولائی ۱۹۴۳ء) ممتاز عالم دین، صوفی اور متکلم و مفسر مولانا کو حکیم الامت مجدد الملت، جامع المجددین اور علوم ظاہری و باطنی کا ماہر وغیرہ القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔شاہکار انسائیکلو پیڈیا کے مدیر شہیر جناب سید قاسم محمود رقمطراز ہیں۔مولانا کی تصانیف کی تعداد آٹھ سو کے قریب ہے۔تصانیف کی تعداد کے لحاظ سے وہ امام ابن جریر طبری امام فخر الدین رازی حافظ ابن جوزی اور حافظ جلال الدین ، *