بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 106
106 غرض آیت مذکورہ میں استوی علی العرش کا لفظ بطور کنایہ استعمال کیا گیا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے زمین و آسمان پیدا کر کے اور اپنی تشبیہی صفات کا ظہور فرما کر تنزیہی صفات اختیار کرنے کے لئے مقام بلند اختیار کر لیا۔یعنی تنزیہی صفات بھی ثابت کر دیں۔جو وراء الوراء مقام اور مخلوق کے قرب و جوار سے دور تر اور بلند مقام ہے۔اسی کو عرش کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔جس کی واضح تر تشریح یہ ہے۔کہ جب تمام مخلوق پر دہ عدم میں مستور تھی اور سوائے خدا کے کچھ نہ تھا۔تو خدا تعالی دارء الوراء مقام میں جس کا نام اصطلاح قرآنی میں ”عرش“ ہے۔اپنی تجلیات ظاہر کر رہا تھا۔پھر اس نے زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے۔پیدا کیا تو پھر اس نے اپنے تئیں مخفی کر لیا اور یہ چاہا کہ وہ ان مصنوعات کے ذریعہ پہچانا جائے۔" (کتاب الاسلام » صفحه ۴۲۱٬۴۲۰) یہ مضمون چشمہ معرفت صفحہ ۲۶۲ سے لیا گیا ہے اور پورا مضمون صفحہ ۲۶۲ لغایت ص ۲۶۶ کا خلاصہ کر کے مولف محترم نے اپنی کتاب میں درج فرمایا ہے۔جس میں عرش کو چار اور آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کی تشریح فرمائی ہے۔" اب تیسرا نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔جو آئینہ کمالات اسلام سے لیا گیا ہے۔اور دو روحانی داعی مقرر کئے ہیں۔ایک داعی خیر جس کا نام روح القدس ہے اور ایک داعی شر جس کا نام ابلیس یا شیطان ہے۔یہ دونوں نیکی اور بدی کی طرف بلاتے ہیں۔مگر کسی بات پر جبر نہیں کرتے اور یہ دونوں انسان میں بطور ابتلاء کے رکھے گئے ہیں۔چونکہ خدا تعالیٰ علت العلل ہے۔اور یہ دونوں داعی خدا تعالی کی تخلیق سے ہیں اور یہ سب انتظام اسی کی طرف سے ہے۔اسی لئے اس کو خالق خیر و شر کہا جاتا ہے۔ورنہ شیطان کی کیا حقیقت ہے کہ وہ کسی کے دل میں برا وسوسہ ڈالے اور اس کو گمراہ کرے اور روح القدس کیا چیز ہے۔جو کسی کو تقویٰ کی راہوں کی طرف ہدایت کرے۔" (کتاب الاسلام صفحہ ۷ ۴۸)