بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 118
118 سيس پس اسی طرح ہماری اخلاقی حالت بھی حسب موقع تبدیلی کو چاہتی ہے ایک وقت رعب دکھلانے کا مقام ہوتا ہے وہاں نرمی اور در گزر سے کام بگڑتا ہے اور دوسرے وقت نرمی اور تواضع کا موقع ہوتا ہے اور وہاں رعب دکھلانا سفلہ پن سمجھا جاتا ہے۔غرض ہر ایک وقت اور ہر مقام ایک بات کو چاہتا ہے۔پس جو شخص رعایت مصالح اوقات نہیں کرتا۔وہ حیوان ہے نہ انسان اور وہ وحشی ہے نہ مہذب - ce (نسیم دعوت صفحہ ۷۱ - ۷۲ طبع اول ۱۹۰۳ء) یہ روح پرور مضمون مولانا اشرف علی صاحب تھانوی کی کتاب " احکام اسلام۔عقل کی نظر میں" کے صفحہ ۲۲۳ اور ۲۲۴ میں اول سے آخر تک بعینہ نقل شدہ موجود ہے۔حرمت خنزیر کا فلسفہ - کتاب احکام اسلام " (صفحہ ۲۰۴) میں ” وجوہ حرمت خنزیر" کے زیر عنوان حسب ذیل عبارت مندرج ہے جو حضرت اقدس کی معرکہ آراء کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی" کے صفحہ ۲۴ ( طبع اول) سے مستعار لی گئی ہے:۔۔اس بات کا کس کو علم نہیں کہ یہ جانور اول درجہ کا نجاست خور اور نیز بے عزت اور دیوث ہے۔اب اس کے حرام ہونے کی وجہ ظاہر ہے کہ قانون قدرت یہی چاہتا ہے کہ ایسے پلید اور بد جانور کے گوشت کا اثر بھی بدن اور روح پر بھی پلید ہی ہو کیونکہ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ غذاؤں کا بھی انسان کی روح پر ضرور اثر ہوتا ہے۔پس اس میں کیا شک ہے کہ ایسے بد کا اثر بھی بد ہی پڑے گا۔جیسا کہ یونانی طبیبوں نے اسلام سے پہلے ہی یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس جانور کا گوشت