بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 105 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 105

105 مکاشفات میں اس کی بہت مثالیں ہیں۔جن کو عالم مکاشفات میں سے کچھ حصہ ملا ہے۔وہ اس قسم کے جسم کو جو اعمال سے تیار ہوتا ہے۔تعجب اور استبعاد کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔غرض یہ جسم جو اعمال کی کیفیت سے بنتا ہے۔یہی عالم برزخ میں نیک و بد کی جزا کا موجب ہو جاتا ہے۔" اصحاب مکاشفہ کو عین بیداری میں مردوں سے ملاقات ہوتی ہے اور وہ فاسقوں اور گمراہی اختیار کرنے والوں کا جسم ایسا سیاہ دیکھتے ہیں کہ گویا وہ دھوئیں سے بنایا گیا ہے۔بہر حال مرنے کے بعد ہر ایک کو جسم ملتا ہے خواہ نورانی ہو یا ظلماتی۔" یه مضمون اسلامی اصول کی فلاسفی" کے صفحہ نمبر ۸۲ پر تیسری سطر سے شروع ہو کر اکیسویں سطر تک لفظ بلفظ ہے۔کہیں کہیں مولف مذکور نے ایک آدھ لفظ بدل دیا ہے۔یا کم کر دیا ہے اور حسب ذیل فقرات میں تو عجیب انداز سے تصرف کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ۔" میں اس میں صاحب تجربہ ہوں۔مجھے کشفی طور پر عین بیداری میں بار ہا بعض مردوں کی ملاقات کا اتفاق ہوا ہے اور میں نے بعض فاسقوں اور گمراہی اختیار کرنے والوں کا جسم ایسا سیاہ دیکھا ہے کہ گویا دھوئیں سے بنایا گیا ہے۔غرض میں اس کو چہ سے ذاتی واقفیت رکھتا ہوں اور میں زور سے کہتا ہوں کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ایسا ہی ضرور مرنے کے بعد ہر ایک کو ایک جسم ملتا ہے۔خواہ نورانی خواہ ظلماتی۔" اب دوسرا نمونہ ملاحظہ ہو۔یہ جواہرات "چشمہ معرفت" کے خزانہ سے حاصل کئے گئے ہیں۔ان ربكم الله الذي خلق السموات والارض في سته ايام ثم استوى على العرش۔تمہارا پروردگار وہ خدا ہے۔جس نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا اور پھر اس نے عرش پر قرار پکڑا -