A Verdict Required — Page 2
الله الرحمن الرحيم محمدة وتصلى رسوله الكريم ساب من - میں اس چھٹی کے ہمراہ آپ کی خدمت میں ایک رسالہ بھیجتا ہوں جس کا نام استفتا ہے اس سوال کے کھنے کی ضرورت یہ ہوئی ہے کہ ار آریہ یہ قوم قوم نے نے حد حد سے سے زیادہ زیادہ اسبات 1 پر زور دیا ہے کہ لیکر برام ام اس شخص بینی اس راقم کی سازشی سے قبل ہوا ہے اور میری دانست میں وہ کسی قدر معذور بھی ہیں کیونکہ وہ ال نیزہ کسی قدر معذور بھی ہیں کیونکر ہ الہامی میٹنگو یون کی فوق العادت طریق سے بالکل نہیں ہیں وجہ یہ کہ ان کے عقیدہ کی رو سے ہزار ہا برس سے الہام الہی پر مہر لگ چکی ہے اور خدا کا کلام آگے نہیں بلکہ کچھ رہ گیا ہی السی وہ کسی طرح سمجھ نہیں سکتے کہ خدا کی طر نے ایسی پیشگوئیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ بہر حال ہمارے ہا نہ میں جو اپنی بریت کے وجوہ ہیں۔ ان کا بیان کر دیا ن صرف لیکھرام کے حامیوں کے شبہات کو مٹانا ہے بلکہ ایسے لوگوں کے معلومات کو بھی وسیع کرنا ہے۔ جو اس زمانہ ان میں کسی الہی پیشگوئی کے نفس مفہوم پر بھی اعتراض رکھتے ہیں اور غیب کی باتون کو قبل از وقت بیان کرنا تاتو قدرت کی خلاف خیال کر رہے ہیں غالباً یہ رسالہ ان لوگوں کے لئے بھی دلچسپ او دلچسپ سپ اور موجب زیارت علم ہو گا. بودلی زیادت علم ہوگا جو دلی شوق کے ساح اسبات کی تفتیش ش مین میں کیا نہ حقیقت میں موجو د ہے اور کیا وہ قبل از وقت کسی پر غیب کی باتیں ظاہر کر سکتا ہو اس فرض اس ارسال مین تمام ایسی وجوہ بیان کی گی ہیں کہ جو جنوبی ثابت کرتے ہیں کہ وہ پیشگوئی جولیکرام کے بار مین کیگئی تھی وہ واقعی طور پر نا ؟ کیر سے تھی اور کسطرح مکن ہی نیں کہ وہ انسان کا منصوبہ ہویا انسان اپر قادر ہونے اور سات کو ہم کی دو بیان کرچکے ہیں کہ اس ٹیگوسی کی درخواست لیکرام نے آپ ہی کی تھی اور اسکو اسلام اور آریہ ذہب کے انسان صدق و کذب کا سیا قرار دیاتھا اور را اس کے فریقین کی باہمی رضامندی کو دو نو فریق نے بڑی زور سے اس پیشگوئی کو شائع کیا تھا، در سطح پہلوان کی کسی ہوتی تو اسطح دونوگرا کا اس میگوی پر خیال لگا ہوا تھا آخر بڑی صفای کی یہ پوری ہوئی۔ اس مینگوئین یہ بانہایت جیسے جسکو میں زبردست دلائل کے ساتہ اس سالم بین بیان کر دیا ہ اور وه ی که به پنگوسی باری شا کو مین سر جیمین لیکرام قتل مواری ابریس اب ہماری کتاب بر این احمد کو ایک امام می بری ہر سوچنا چاہئے صفائی کو ذکر کی گئی ہے کرلیتی ہےاور برای کی تالیکا و زمان تھاکہ شاید اسوقت یک امریکا و گاری و کوخوب غوریو سوم اور یہی وہ امر ہے جس سے میت کی ترقی ہوگی اور خدا کے فضل اور انسان کے فعل من کھلا کھلا فرق دکھائی دیگا اور دل مین سکینت اور اطمینا ایران را بیدار ایک دور امین کا نام را ایرانی با او رانی اور کر کو لکهای پیکری کے اپنی گواہی نقشہ مسئلہ میں ایک اور سلسلہ گواہ کیطرح پیش کیا اور وہ یہ کرو ار و یه که میوه تمام میگویان و اسکرام کے مرمیم پر اور مولی نہین رسالہ مذکورہ میں جمع کرکی اور بالی طورپر کا نظام الا ان لوگوں کی بر ایر آری می گواه من برابر مین پیشگویان سیلیکن مین مسیر تردیک تر ہوگیا کہ جو اپنی ہے منیر کیومت را اسیر کا دیکھنا مناسب سمجھیں وہ نجی طلب کرین میں وہ رسالا کی درست من روانه کرد نگا اور یہ ابھی مان کر دیا قابل کاروں کو نیوی کے ہیں ان کے ہا ان کی وجہ کیا کے کم ہی کہ نیوی کی رات امور میں والی ایسی کار مخالفت مولوی بھی ہور و ما نیت سے بے بہرہ میں ہی گرداب میں پڑی ہوئی ہیں۔ سوان کے لئے بھی یہ سالہ سفید ہوگا بشرطیکہ وہ فور سی پڑھی اور یه ساله ای چھی کے زریعہ سوآپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا کہ آپا کے وہ پیش کردہ پر ورکرکے اور ویانا کند و این را نادیا کی رو ہونی ی کیمیایی او یا وقت پوری ہوگئی پانی اور کیا مالی و ایرانی کی نسبت فوق کو سالم یکترین کانی والی بیوی کا ا ا الا را اعلام احمد قادیانی Facsimile of the original letter addressed to the recipients of Istiftā