شمائل النبی ؐ — Page 87
87 شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم الْكَلَامَ وَيَخْتِمُهُ بِاسْمِ اللهِ وَيَتَكَلَّمُ بِجَوَامِعِ مشتمل ہوتا۔آپ کے کلام کے الفاظ علیحدہ علیحدہ اور واضح الْكَلِمِ كَلامُهُ فَصَلَّ لَا فُضُولَ وَلَا تَقْصِيرَ ہوتے۔اس میں کوئی زائد بات نہ ہوتی اور نہ ہی اس میں کوئی لَيْسَ بِالْجَافِي وَلَا الْمَهِينِ يُعَظِمُ النِّعْمَةَ وَإِن کی ہوتی تھی۔نہ تو آپ سخت مزاج تھے نہ ہی کمزور اور بے دَقَتْ لَا يَنْمُ مِنْهَا شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَدُمُ حیثیت۔آپ ہر نعمت کی تعظیم فرماتے خواہ چھوٹی ہی کیوں نہ ذَوَاقًا وَلَا يَمْدَحُهُ وَلَا تُغْضِبُهُ الدُّنْيَا وَلَا مَا كَانَ ہو۔کسی نعمت کی ذرا بھی مذمت نہ کرتے۔ہاں کھانے پینے کی لَهَا فَإِذَا تُعْدِيَ الْحَقُّ لَمْ يَقُمُ لِغَضَبِهِ شَيْءٌ حَتَّی چیزوں کی نہ مذمت کرتے نہ تعریفیں کرتے۔نہ دنیا آپ کو يَنتَصِرَ لَهُ لَا يَغْضَبُ لِنَفْسِهِ وَلَا يَنتَصِرُ لَهَا إِذَا غصہ دلاتی نہ ہی جو اس سے متعلق ہے۔لیکن اگر کوئی حق سے أَشَارَ أَشَارَ بِكَفِّهِ كُلِهَا وَإِذَا تَعَجَّبَ قَلَبَهَا وَإِذَا تجاوز کیا جاتا یا حق غصب کر لیا جاتا تو پھر آپ کے جلال کے تَحَدَّثَ اتَّصَلَ بِهَا وَضَرَبَ بِرَاحَتِهِ الْيُمْنى سامنے کوئی چیز نہ ٹھہر سکتی تھی جب تک آپ اس کی دادرسی نہ بَطْنَ إِبْهَامِهِ الْيُسْرَى وَإِذَا غَضِبَ أَعْرَضَ کروا دیتے۔اپنی ذات کے لئے کبھی غصے نہ ہوتے اور نہ اُس وَأَشَاحَ وَإِذَا فَرِحَ غَضْ طَرْفَهُ وَ كان الجدر کے لئے بدلہ لیتے۔جب آپ اشارہ کرتے تو پورے ہاتھ تلاحك وجه ، * جُلُّ ضِحْكِهِ التَبَسُمُ يَفْتَرُ سے کرتے۔جب آپ تعجب کا اظہار کرتے تو ہاتھ الٹا دیتے اور جب آپ بات کرتے تو ہاتھ کو اس کے مطابق حرکت دیتے اور دائیں ہتھیلی کو بائیں انگوٹھے کے اندرونی حصہ پر لگاتے۔جب آپ ناراض ہوتے تو اعراض کرتے اور ناپسندیدگی کا اظہار فرماتے۔جب خوش ہوتے تو آنکھیں نیچی کر لیتے ” گویا دیوار میں آپ کے سامنے آگئی ہیں۔“ آپ کی زیادہ سے زیادہ جنسی تبسم کی حد تک ہوتی (یعنی زور کا قہقہہ نہ لگاتے ) آپ کے دندان مبارک ایسے لگتے جیسے بادل سے گرنے والے اولے ہوتے ہیں۔عَنْ مِثْلِ حَبّ الْغَمَامِ۔ی مترجمین کی رائے میں شاید اس کا ترجمہ یہ کیا جا سکتا ہے کہ حضور ﷺ کے چہرہ مبارک سے دیوار میں روشن ہو جاتی تھیں۔اللہ اعلم بالصواب۔اس فقرہ کے ترجمہ کے بارہ میں مختلف نسخوں میں اشتباہ پایا جاتا ہے اور بیروت کے نسخہ میں یہ فقرہ موجود ہی نہیں ہے۔