شمائل النبی ؐ — Page 51
شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 51 بَابُ مَا جَاءَ فِي تَكْأَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹیک لگانے کا بیان 125: حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّوَرِيُّ :125 حضرت جابر بن سمرہ سے روایت ہے۔انہوں نے الْبَغْدَادِيُّ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کودیکھا آپ تکیہ سے ٹیک إِسْرَائِيلَ عَنْ سِمَاكِ ابْنِ حَرُبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ لگائے ہوئے تھے اپنی بائیں طرف۔سَمُرَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِةٌ عَلَى وِسَادَةٍ عَلَى يَسَارِهِ۔:126: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مُسْعَدَةَ اَخْبَرَنَا بِشُرُ :126 حضرت ابوبکرہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ بْنُ الْمُفَضَّلِ أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ نہ بتاؤں؟ صحابہ نے عرض کیا: ضرور یا رسول اللہ ! آپ نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَلَا يُحَدِّتُكُمُ بِاكْبَرِ فرمایا: اللہ کا شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا۔راوی الْكَبَائِرِ؟ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ یہ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔الْإِشْرَاكَ بِاللَّهِ وَعَقُوقَ الْوَالِدَيْنِ قَالَ وَجَلَسَ آپ بیٹھ گئے اور فرمایا: جھوٹی گواہی دینا یا فرمایا جھوٹ بولنا۔رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مُتَّكِاً راوی کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ بار بار یہ فقرہ دہراتے رہے قَالَ وَشَهَادَةُ الزُّوْرِاَوْ قَوْلُ النُّورِ قَالَ فَمَازَالَ یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش حضور خاموش ہو جائیں۔رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ۔127: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ابْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شَرِيكَ :126 حضرت ابو جحیفہ سے روایت ہے۔انہوں نے عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ قَالَ کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں تو ٹیک لگا کر نہیں رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَنَا فَلَا کھاتا * اكُل مُتَّكِاً۔گریکور ومن دنیا میں اونچا طبقہ reclining پوزیشن میں یعنی نیم دراز ہو کر کھانا کھاتا تھا اور اس کو بڑائی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گویا اس پر نا پسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے۔