سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 82

صلى الله سيرة النبي علي 67 دینداروں کا محافظ ہے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) خدا کے رسول ہیں 67 ۔ جلد 7 یہ معاہدہ کا خلاصہ ہے۔ اس معاہدہ میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ دیانتداری اور صفائی کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا جائے گا اور ظالم اپنے ظلم کا خود ذمہ دار ہوگا۔ اس معاہدہ سے ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ یہودیوں کے ساتھ اور مدینہ کے باشندوں کے ساتھ جو اسلام میں شامل نہ ہوں محبت، پیار اور ہمدردی کا سلوک کیا جائے گا اور انہیں بھائیوں کی طرح رکھا جائے گا ۔ پس بعد میں یہود کے ساتھ جس قدر جھگڑے پیدا ہوئے اُن کی ذمہ داری خالصہ یہود پر تھی ۔ اہل مکہ کی طرف سے از سر نو شرارتوں کا آغاز جیسا کہ بتایا جا چکا ہے ہو کہ دو تین مہینہ کے بعد مکہ والوں کی پریشانی جب دور ہوئی تو اُنہوں نے پھر سے اسلام کے خلاف ایک نیا محاذ قائم کیا۔ چنانچہ انہی ایام میں مدینہ کے ایک رئیس سعد بن معاذ جو اوس قبیلہ کے سردار تھے بیت اللہ کا طواف کرنے کے لئے مکہ گئے تو ابو جہل نے اُن کو دیکھ کر بڑے غصہ سے کہا کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ اُس مرتد ( محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو پناہ دینے کے بعد تم لوگ امن کے ساتھ کعبہ کا طواف کر سکو گے اور تم یہ گمان کرتے و کہ تم اُس کی حفاظت اور امداد کی طاقت رکھتے ہو؟ خدا کی قسم! اگر اس وقت تیرے ساتھ ابو صفوان نہ ہوتا تو تو اپنے گھر والوں کے پاس بیچ کر نہ جا سکتا۔ سعد بن معاذ نے کہا اللہ! اگر تم نے ہمیں کعبہ سے روکا تو یا د رکھو پھر تمہیں بھی تمہارے شامی راستہ پر امن نہیں مل سکے گا ۔ اُنہی دنوں میں ولید بن مغیرہ مکہ کا ایک بہت بڑا ریکس بیمار ہوا اور اُس نے محسوس کیا کہ اُس کی موت قریب ہے۔ ایک دن مکہ کے بڑے بڑے رئیس اُس کے پاس بیٹھے تھے تو وہ بے اختیار ہو کر رونے لگ گیا۔ مکہ کے رؤسا حیران ہوئے اور اُس سے پوچھا کہ آخر آپ روتے کیوں ہیں؟ ولید نے کہا کیا تم سمجھتے ہو کہ