سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 34

صلى الله سيرة النبي علي 19 جلد 7 ریت میں لٹا کر او پر یا تو پتھر رکھ دیتے یا نو جوانوں کو سینہ پر کودنے کے لئے مقرر کر دیتے ۔ حبشی النسل بلال امیہ بن خلف نامی ایک مکی رئیس کے غلام تھے۔ اُمیہ انہیں دو پہر کے وقت گرمی کے موسم میں مکہ سے باہر لے جا کر تپتی ہوئی ریت پر ننگا کر کے لٹا دیتا تھا اور بڑے بڑے گرم پتھر اُن کے سینہ پر رکھ کر کہتا تھا کہ لات اور عزیٰ کی الوہیت کو تسلیم کر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے علیحدگی کا اظہار کر۔ بلال اُس کے جواب جواب ب میں کہتے اَحَدٌ اَحَدٌ 14 یعنی اللہ ایک ہی ہے اللہ ایک ہی ہے ۔ بار بار آپ کا یہ سن کر اُمیہ کو اور غصہ آجاتا اور وہ آپ کے گلے میں رسہ ڈال کر شریر لڑکوں کے حوالے کر دیتا اور کہتا کہ ان کو مکہ کی گلیوں میں پتھروں کے اوپر سے گھسیٹتے ہوئے لے جائیں۔ جس کی وجہ سے اُن کا بدن خون سے تر بتر ہو جاتا مگر وہ پھر بھی اَحَدٌ اَحَدٌ کہتے چلے جاتے یعنی خدا ایک خدا ایک ۔ دیر بعد جب خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو مدینہ میں امن دیا، جب وہ آزادی سے عبادت کرنے کے قابل ہو گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو اذان دینے کے لئے مقرر کیا۔ یہ حبشی غلام جب اذان میں اَشْهَدُ أَن لَّا إِلَهَ إِلَّا الله کی بجائے اَسْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللہ کہتا تو مدینہ کے لوگ جو اُس کے حالات سے نا واقف تھے ہنسنے لگ جاتے۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلال کی اذان پر ہنستے ہوئے سنا تو آپ لوگوں کی طرف مڑے اور کہا تم بلال کی اذان پر ہنستے ہو مگر خدا تعالیٰ عرش پر اُس کی اذان سن کر خوش ہوتا ہے۔ آپ کا اشارہ اسی طرف تھا کہ تمہیں تو یہ نظر آتا ہے کہ یہ ”ش“ نہیں بول سکتا مگر ”ش“ دو 66 اور ”س“ میں کیا رکھا ہے خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ جب تپتی ریت پر ننگی پیٹھ کے ساتھ اس کو لٹا دیا جاتا تھا اور اس کے سینہ پر ظالم اپنی جوتیوں سمیت کو دا کرتے تھے اور پوچھتے تھے کہ کیا اب بھی سبق آیا ہے یا نہیں؟ تو یہ اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں اَحَدٌ اَحَدٌ کہہ کر خدا تعالیٰ کی توحید کا اعلان کرتا رہتا تھا اور اپنی وفاداری اپنے توحید کے عقیدہ اور اپنے دل کی مضبوطی کا ثبوت دیتا تھا۔ پس اس کا اَسْهَدُ بہت سے لوگوں کے اَشْهَدُ