سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 289
صلى الله سيرة النبي علي 274 جلد 7 ماں باپ کے علاوہ اُن کے رشتہ داروں اور دوستوں کا بھی ادب کرتے ہیں ۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اقارب کی خدمت کا ذکر تھا تو آپ نے فرمایا بہترین نیکی یہ ہے کہ انسان اپنے باپ کی دوستیوں کا بھی خیال رکھے۔ یہ بات آپ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے کہی تھی اور اس پر انہوں نے ایسا عمل کیا کہ ایک دفعہ وہ حج کے لئے جارہے تھے کہ رستہ میں ایک شخص اُن کو نظر آیا۔ آپ نے اپنی سواری کا گدھا اُس کو دے دیا اور اپنے سر کا خوبصورت عمامہ بھی اُس کو عطا کر دیا۔ اُن کے ساتھیوں نے انہیں کہا کہ آپ نے یہ کیا کام کیا ہے؟ یہ تو اعرابی لوگ ہیں بہت تھوڑی سی چیز ان کو دے دی جائے تو خوش ہو جاتے ہیں ۔ عبداللہ بن عمرؓ نے کہا س شخص کا باپ حضرت عمرؓ کا دوست تھا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے نیکی کا اعلیٰ درجے کا مظاہرہ یہ ہے کہ انسان اپنے باپ کے دوستوں کا بھی خیال رکھے 322 ۔ - تے تھے اور نیک صحبت آپ ہمیشہ اپنے اردگرد نیک لوگوں کے رہنے کو پسند کرتے اگر کسی میں کمزوری ہوتی تھی تو اُسے عمدگی کے اُسے عمدگی کے ساتھ اور پردہ پوشی کے ساتھ نصیحت فرماتے تھے ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے نیک دوست اور نیک مجلسی اور بد دوست اور بد مجلسی کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک شخص مشک اٹھائے پھر رہا ہو مشک اٹھانے والا اُس کو کھائے گا تب فائدہ اٹھائے گا اور رکھ چھوڑے گا تب بھی خوشبو حاصل کرے گا۔ اور جس کے ہم مجلس بد ہوں اُن کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی بھٹی کی آگ میں پھونکیں مارتا ہے۔ وہ اتنی ہی امید رکھ سکتا ہے کہ کوئی چنگاری اڑ کر اُس کے کپڑوں کو جلا دے یا کوئلوں کی بد بو سے اُس کا دماغ خراب ہو جائے 323 ۔ آپ اپنے صحابہؓ کو بار بار فرمایا کرتے تھے کہ انسان کے اخلاق ویسے ہی ہو جاتے ہیں جیسی مجلس میں وہ بیٹھتا ہے اس لئے نیک صحبت اختیار کیا کرو۔